حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 620
620 جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لیے ہو تو اس کا نام صلوۃ نہیں۔لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے۔اور ادب انکسار تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔تب وہ صلوٰۃ میں ہوتا ہے۔نماز توحید کا عملی اقرار ہے ( ملفوظات جلد چہارم صفحه (283) خوب یاد رکھو اور پھر یاد رکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور تو حید کچھ ہی ہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے اسی وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو!! سنو!وہ دعا جس کے لیے اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن: 61) فرمایا ہے اس کے لیے یہی کچی روح مطلوب ہے۔اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔نماز جامع حسنات اور مقام ادب ہے ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 107) یقیناً یا درکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالب حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے کسی اور بدعت کی ضرورت نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور ہمارا اپنا اور ان راست بازوں کو جو پہلے ہو گزرے ہیں ان سب کا تجربہ ہے کہ نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھکر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے جب انسان اپنے آپ کو فنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے افسوس ان نادانوں اور دنیا پرستوں پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع سجود پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس عالم سے حصہ نہ رکھتا ہو جہاں سے نماز آئی ہے۔۔۔۔تب تک انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں مگر جس شخص کا یقین خدا پر نہیں وہ نماز پر کس طرح یقین کر سکتا ہے نماز جامع حسنات ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 94-93 مع حاشیہ نمبر 1)