حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 605 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 605

605 انبیاء اور اجتہادی غلطی اگر یہ کہا جائے کہ انہیں احادیث کی کتابوں میں بعض امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی غلطی کا بھی ذکر ہے۔اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجی سے تھا تو پھر وہ غلطی کیوں ہوئی۔گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قبضہ سے ایک دم جدا نہیں ہوتے تھے۔پس اس اجتہادی غلطی کی ایسی ہی مثل ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں چند دفعہ سہو واقع ہوا تا اس سے دین کے مسائل پیدا ہوں۔سواسی طرح بعض اوقات اجتہادی غلطی ہوئی تا اس سے بھی تکمیل دین ہو اور بعض بار یک مسائل اس کے ذریعہ سے پیدا ہوں اور وہ سہو بشریت بھی تمام لوگوں کی طرح سہو نہ تھا بلکہ دراصل ہم رنگ وحی تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تصرف تھا جو نبی کے وجود پر حاوی ہو کر اس کو کبھی ایسی طرف مائل کر دیتا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے بہت مصالح تھے۔آئینہ کمالات اسلام - ر- خ - جلد 5 صفحہ 115-113 ) انبیاء کی ترقی تدریجی ہے انبیاء کے علم میں بھی تدریجا ترقی ہوتی ہے اسواسطے قرآن شریف میں آیا ہے۔قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: 115) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 456) انبیاء علیہم السلام ہمیشہ دعا میں لگے رہتے ہیں اور ہمیشہ زیادہ نو ر مانگتے رہتے ہیں۔وہ کبھی اپنی روحانی ترقی پر سیر نہیں ہوتے اس لئے ہمیشہ استغفار میں لگے رہتے ہیں کہ خدا ان کی ناقص حالت کو ڈھاپنے اور پورا روشنی کا پیمانہ دے اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا یعنی ہمیشہ علم کے لئے دعا کرتارہ کیونکہ جیسا خدا بے حد ہے ایسا ہی اس کا علم بھی بے حد ہے۔ریویو آف ریلیچنز جلد دوم نمبر 6 صفحه 244) اس پر عرض کیا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے احیائے موتی کی کیفیت کے متعلق اطمینان چاہا تھا۔کیا ان کو پہلے اطمینان نہ تھا۔فرمایا:۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمان کہلاتے ہیں۔ان کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن شریف میں آیا ہے گذلِک لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنَهُ تَرْتِيلاً (الفرقان: 33)۔پس میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کی حالت کیسی ہوتی ہے۔جس دن نبی مامور ہوتا ہے اس دن اور اس کی نبوت کے آخری دن میں ہزاروں کوس کا فرق ہو جاتا ہے۔پس یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کہا۔ابراہیم تو وہ شخص ہے جس کی نسبت قرآن شریف نے خود فیصلہ کر دیا ہے۔اِبرَاهِيمَ الَّذِى وَ فى (النجم : 38) پھر یہ اعتراض کس طرح ہو سکتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 246)