حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 599
599 آئے گا۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے۔وَ مَنِ ادَّعَى فَقَدْ كَفَرَ۔اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ۔تقاضا کہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبیین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور فی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلا ئیگا کیونکہ وہ محمد ہے گولی طور پر۔مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 434-433) انبیاء کی ضرورت اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران: 32) خدا کی ذات میں بخل نہیں۔اور نہ انبیاء اس لیے آتے ہیں کہ ان کی پوجا کی جاوے۔بلکہ اس لیے کہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ ہماری راہ اختیار کرنے والے ہمارے حل کے نیچے آ جاویں گے۔جیسے فرمایا۔انی كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله یعنی میری پیروی میں تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر محبوب ہونے کی بدولت یہ سب اکرام ہوئے مگر جب کوئی اور شخص محبوب بنے گا۔تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔اگر اسلام ایسا مذہب ہے تو سخت بیزاری ہے ایسے اسلام سے۔مگر ہرگز اسلام ایسا مذہب نہیں۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو وہ مائدہ لائے ہیں کہ جو چاہے اس کو حاصل کرے۔وہ نہ تو دنیا کی دولت لائے اور نہ مہاجن بن کر آئے تھے۔وہ تو خدا کی دولت لائے تھے اور خود اس کے قاسم تھے پھر اگر وہ مال دینا نہیں تھا تو کیا وہ گھڑی واپس لے گئے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 177-176 ) نبی کا آنا ضروی ہوتا ہے۔اس کے ساتھ قوت قدسی ہوتی ہے اور ان کے دل میں لوگوں کی ہمدردی نفع رسانی اور عام خیر خواہی کا بیتاب کر دینے والا جوش ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4) یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس خیال سے کہ وہ مومن نہیں ہوتے؟ اس کے دو پہلو ہیں ایک کافروں کی نسبت کہ وہ مسلمان کیوں نہیں ہوتے دوسرا مسلمانوں کی نسبت کہ ان میں وہ اعلیٰ درجہ کی روحانی قوت کیوں نہیں پیدا ہوتی جو آپ چاہتے ہیں۔چونکہ ترقی تدریجا ہوتی ہے اس لئے صحابہ کی ترقیاں بھی تدریجی طور پر ہوئی تھیں مگر انبیاء کے دل کی بناوٹ بالکل ہمدردی ہی ہوتی ہے اور پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جامع جمیع کمالات نبوت تھے آپ میں یہ ہمدردی کمال درجہ پر تھی آپ صحابہ کو دیکھ کر چاہتے تھے کہ پوری ترقیات پر پہنچیں لیکن یہ عروج ایک وقت پر مقدر تھا آخر صحابہ نے وہ پایا جو دنیا نے کبھی نہ پایا اوروہ دیکھا جوکسی نے نہ دیکھا تھا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 338)