حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 598
598 ایمان بالرسل کی ضرورت پھر اسی خط میں ایک دوسرا سوال یہ بھی تھا کہ کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی؟ اس پر فرمایا کہ :۔رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں۔پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حلت و حرمت کی قید اٹھا کر باحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو؟ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جولا انتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہو اور پھر نجات کی امید۔اس کا انکار کرنا ساری بدکاریوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھنا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 394) (14) قوله تعالى۔و الذين امنوا و عملوالصالحات و امنوا بما نزّل على محمد و هو الحق من ربهم كفر عنهم سياتهم واصلح بالهم۔الجزو نمبر 26سورة محمد2-3) ترجمہ۔جولوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اور وہ کلام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اس پر ایمان لائے اور وہی حق ہے ایسے لوگوں کے خدا گناہ بخش دیگا اور انکے دلوں کی اصلاح کریگا۔اب دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی وجہ سے کس قدر خدا تعالیٰ اپنی خوشنودی ظاہر فرماتا ہے کہ ان کے گناہ بخشتا ہے اور ان کے تزکیہ نفس کا خود متکفل ہوتا ہے۔پھر کیسا بد بخت وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں اور غرور اور تکبر سے اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے۔سعدی نے سچ کہا ہے:۔ست سعدی که راه صفا تواں رفت جز درپئے مصطفیٰ برد مهر آں شاہ سوئے بہشت حرام اهست بر غیر بوئے بہشت ترجمہ۔رسول اکرم کی پیروی کے بغیر نیکی کی راہ اختیار نہیں ہو سکتی اس بادشاہ کی محبت بہشت تک لے جاتی ہے۔غیر کے در تک بہشت کی خوشبو نہیں پہنچتی۔محال نبی کی تعریف (حقیقۃ الوحی۔رخ- جلد 22 صفحہ 133 ) لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔(الجن: 28-27) نبی کے معنے لغت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔(الجن : 28-27)۔اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کی رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہونگے بالضرورت اس پر مطابق آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبہ کے مفہوم نبی کا صادق