حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 594
594 تیسری فصل ایمان بر کتب سماوی يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللهِ وَ رَسُولِهِ وَالْكِتَبِ الَّذِى نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَبِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلِ وَ مَنْ يَكْفُرُ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا۔(النساء: 137) ( ترجمہ ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا پر ایمان لاؤ۔اور اس کے رسول پر اور اسکی اس کتاب پر جو اس کے رسول پر نازل ہوئی ہے یعنی قرآن شریف پر اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو پہلے نازل ہوئی۔یعنی تو ریت وغیرہ پر۔اور جو شخص خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اسکے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لائے گا اور حق سے بہت دور جا پڑا یعنی نجات سے محروم رہا۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 129 ) امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَ مَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ۔(البقرة : 286) یعنی رسول اور اس کے ساتھ کے مومن اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو ان پر نازل کی گئی اور ہر ایک خدا پر ایمان لایا اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور ان کا یہ اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں تفرقہ نہیں دالتے۔اس طرح پر کہ بعض کو قبول کریں اور بعض کو رد کر دیں۔بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں۔ہم نے سنا اور ایمان لائے اے خدا ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی ہماری بازگشت ہے۔ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف ان تمام نبیوں کا ماننا جن کی قبولیت دنیا میں پھیل چکی ہے مسلمانوں کا فرض ٹھہراتا ہے اور قرآن شریف کی رو سے ان نبیوں کی سچائی کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصہ نے ان کو قبول کیا اور ہر ایک قدم میں خدا کی مدد اور نصرت ان کے شامل حال ہوگئی۔خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ کروڑ ہا انسانوں کو اس شخص کا سچا تابع اور جاں نثار کرے جس کو وہ جانتا ہے کہ خدا پر افترا کرتا ہے اور دنیا کو دھوکہ دیتا ہے اور دروغ گو ہے اور اگر کاذب کو ایسی ہی عزت دی جائے جیسا کہ صادق کو تو امان اُٹھ جاتا ہے اور امر نبوت صادقہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔پس یہ اصول نہایت صحیح اور سچا کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہر ایک قدم میں حمایت اور نصرت الہی ان کے شامل حال ہو جاتی ہے وہ ہر گز جھوٹے ہوا نہیں کرتے۔ہاں ممکن ہے کہ پیچھے آنے والے ان کے نوشتوں میں تحریف تبدیل کر دیں اور اپنی نفسانی تفسیروں سے ان کے مطالب کو الٹا دیں بلکہ پرانی کتابوں کے لیے یہ بھی ایک لازمی امر ہے کہ مختلف خیالات کے آدمی اپنے خیال کے طور پر ان کے معنے کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہی معنے جزو کتاب کی سمجھے جاتے ہیں۔اور پھر انھیں مختلف خیالات کی کشش کی وجہ سے کئی فرقے ہو جاتے ہیں اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کے مخالف معنے کرتا ہے۔(چشمہ معرفت۔ر-خ- جلد 22 صفحہ 378-377)