حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 30 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 30

30 مهدی وقت علم دین صرف خدا تعالیٰ سے ہی حاصل کرتا ہے چوں حاجت بود به ادیپ دگر مرا من تربیت پذیر زرب مجھے کسی اور استاد کی ضرورت کیوں ہو میں تو اپنے خدا سے تربیت حاصل کیے ہوئے ہوں در نشین فارسی نیا ایڈیشن ) ( آئینہ کمالات اسلام آخری صفحات۔رخ جلد 5 صفحہ 658) آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا۔اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی۔اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے۔(ایام الصلح۔رخ جلد 14 صفحہ 394) والذي نفسي بيده انه نظر لی فقبلني واحسن الى وبانی و اعطاني من لدنه فهما سليماو عقلا مستقیما و كم من نور قذف فى قلبى فعرفت من القرآن ما لا يعرف غيرى و ادرکت منه ما لا یدرک مخالفی و وصلت فى فهمه الى مرتبة تتقاصر عنها افهام اكثر الناس و ان هذا الااحسانه وهو خير المحسنين۔حمامة البشری - رخ جلد 7 صفحہ 284 285) ترجمہ اردو از مرتب اور میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میری طرف نظر رحمت کی اور مجھے قبول کیا۔اور مجھ پر احسان کیا اور میری تربیت کی اور اس نے اپنے حضور سے مجھے فہم عطا کیا۔جوسلیم تھا۔اور ایسی عقل مستقیم جو بغیر بجی کے ہے عطا کی اور کتنے ہی نور ہیں جو اُس نے میرے دل میں ڈالے اور مجھے قرآن کی معرفت عطا کی گئی جو میرے علاوہ کسی اور کو نہیں دی گئی۔اور اس میں سے میں نے وہ پایا اور حاصل کیا جو میرا مخالف کوشش کے باوجود نہ پاسکا۔اور میں اس قرآن کے فہم میں اس عالی مرتبہ تک پہنچا جہاں تک اکثر لوگوں کی عقلیں پہنچنے سے قاصر ہیں۔اور یہ اس اللہ کے احسان کے علاوہ نہیں ہوسکتا۔اور وہ سب محسنوں میں سے زیادہ احسان کرنے والا ہے۔میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار ( در مشین اردو ) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 145) اے کان دلربائی دانم که از کجائی تو نور آں خدائی میں خلق آفریده اے کان حسن میں جانتا ہوں کہ تو کس سے تعلق رکھتی ہے تو تو اس خدا کا نور ہے جس نے یہ مخلوقات پیدا کی میلم نماند باکس محبوب من توئی بس زیرا کہ زاں فغاں رس نورت بما رسیده مجھے کسی سے تعلق نہ رہا اب تو ہی میرا محبوب ہے کیونکہ اس خدائے فریا درس کی طرف سے تیرا نور ہم کو پہنچا ہے (براہین احمدیہ - رخ جلد 1 صفحہ 305)