حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 520
520 کوئی چیزا اپنی صفات ذاتیہ سے الگ نہیں ہو سکتی پھر خدا کا کلام جوزندہ کلام ہے کیونکر الگ ہو سکے۔پس کیا تم کہہ سکتے ہو کہ آفتاب وحی الہی اگر چہ پہلے زمانوں میں یقینی رنگ میں طلوع کرتا رہا ہے مگر اب وہ صفائی اس کو نصیب نہیں گویا یقینی معرفت تک پہنچنے کا کوئی سامان آگے نہیں۔بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور گویا خدا کی سلطنت اور حکومت اور فیض رسانی کچھ تھوڑی مدت تک رہ کر ختم ہو چکی ہے لیکن خدا کا کلام اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔( نزول المسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 487) الہام جاری ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبيِّنَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔(الاحزاب: 41) کہتے ہیں کہ یہ دروازہ مکالمات و مخاطبات کا اس وجہ سے بند ہو گیا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کے بعد یہ فیض اور فضل بند ہو گیا مگران کی عقل اور علم پر افسوس آتا ہے کہ یہ نادان اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ ختم نبوت کے ساتھ ہی اگر معرفت اور بصیرت کے دروازے بھی بند ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( معاذ اللہ ) خاتم النبین تو کجا نبی بھی ثابت نہ ہوں گے کیونکہ نبی کی آمد اور بعثت تو اس غرض کے لئے ہوتی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ پر ایک یقین اور بصیرت پیدا ہو اور ایسا ایمان ہو جو لذیذ ہو۔اللہ تعالے کے تصرفات اور اس کی قدرتوں اور صفات کی بجلی کو انسان مشاہدہ کرے اور اس کا ذریعہ یہی اس کے مکالمات و مخاطبات اور خوارق عادات ہیں لیکن جب یہ دروازہ ہی بند ہو گیا تو پھر اس بعثت سے فائدہ کیا ہوا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 430-429) یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کے دروازہ کو بند نہیں کیا جو لوگ اس امت کو الہام و وحی کے انعامات سے بے بہرہ ٹھیراتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اور قرآن شریف کے اصل مقصد کو انہوں نے سمجھا ہی نہیں۔ان کے نزدیک یہ امت وحشیوں کی طرح ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات اور برکات کا معاذ اللہ خاتمہ ہو چکا اور وہ خدا جو ہمیشہ سے متکلم خدا رہا ہے۔اب اس زمانہ میں آکر خاموش ہو گیا۔وہ نہیں جانتے کہ اگر مکالمہ جو مخاطبہ نہیں تو ھدی للمتقین کا مطلب ہی کیا ہوا۔بغیر مکالمہ مخاطبہ کے تو اس کی ہستی پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی؟ اور پھر قرآن شریف میں یہ کیوں کہا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70) اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا حم السجدة (31) یعنی جن لوگوں نے اپنے قول اور فعل سے بتا دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت دکھائی ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ فرشتوں کا نزول ہو اور مخاطبہ نہ ہو۔نہیں بلکہ وہ انہیں بشارتیں دیتے ہیں۔یہی تو اسلام کی خوبی اور کمال ہے جو دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 613)