حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 493 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 493

493 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ صرف دفاعی تھے۔جب آپ کی اور آپ کے صحابہ کی تکالیف حد سے بڑھ گئیں اور بہت ستائے گئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مقابلہ کا حکم دیا چنانچہ پہلی آیت جو جہاد کے متعلق ہے وہ یہ ہے۔اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ۔الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقِّ الايۃ یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی جن کے مقابلہ قتل کے لئے مخالفوں نے چڑھائی کی ( اس لئے اجازت دی گئی) کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ تعالیٰ مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔یہ وہ مظلوم ہیں جو ناحق اپنے وطنوں سے نکالے گئے۔ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔غرض آنحضرت صلعم کی لڑائیاں اس وقت تھیں جبکہ کفار کے ظلم انتہاء تک پہنچ گئے۔الحکم جلد 6 نمبر 46 مورخہ 24 دسمبر 1902 صفحہ 9) ( تفسیر حضرت اقدس جلد 6 صفحہ 142) جہاد بطور سزا أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ۔(الحج: 40 ) سارا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبر شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطور سزا تھیں یعنی ان لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفار جنگ کر رہے تھے بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے اور یا وہ لڑائیاں جو بطور مدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبر ارو کتے تھے ان سے بطور حفاظت خود اختیاری یا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی۔کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 74) یاد رہے کہ قرآن کی تعلیم سے بے شک ثابت ہوتا ہے کہ یہود اور نصاری سے لڑائیاں ہوئیں مگر ان لڑائیوں کا ابتداء اہل اسلام کی طرف سے ہرگز نہیں ہوا اور یہ لڑائیاں دین میں جبراً داخل کرنے کے لئے ہرگز نہیں تھیں بلکہ اس وقت ہوئیں جبکہ خودا سلام کے مخالفوں نے آپ ایذاء دے کر یا موذیوں کو مدد دے کر ان لڑائیوں کے اسباب پیدا کیے اور جب اسباب انہیں کی طرف سے پیدا ہو گئے تو غیرت الہی نے ان قوموں کو سزا دینا چاہی اور اس سزا میں بھی رحمت الہی نے یہ رعایت رکھی کہ اسلام میں داخل ہونے والا یا جزیہ دینے والا اس عذاب سے بچ جائے۔یہ رعایت بھی خدا کے قانون قدرت کے مطابق تھی کیونکہ ہر ایک مصیبت جو عذاب کے طور پر نازل ہوتی ہے مثلاً و بایا