حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 489 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 489

489 اسلام میں جہاد کی ضرورت سورہ حج پارہ سترہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَّ مَسجِدُ يُذْكَرُ فَيْهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا (الحج: 41) ( ترجمہ ) یعنی اگر خدا تعالے کی یہ عادت نہ ہوتی کہ بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تو ظلم کی نوبت یہاں تک پہنچتی کہ گوشہ گزینوں کے خلوت خانے ڈھائے جاتے اور عیسائیوں کے گرجے مسمار کئے جاتے اور یہودیوں کے معبد نابود کئے جاتے اور مسلمانوں کی مسجدیں جہاں کثرت سے ذکر خدا ہوتا ہے منہدم کی جاتیں۔اس جگہ خدا تعالے یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ان تمام عبادت خانوں کا میں ہی حامی ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلاً کسی عیسائی ملک پر قبصہ کرے تو ان کے عبادتخانوں سے کچھ تعرض نہ کرے اور منع کر دے کہ ان کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلہ کیلئے مامور ہوتا تھا تو اس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوتخانوں سے تعرض نہ کرے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گر جاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے ہاں البتہ اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دیدیا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔اَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُ وُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (سورة التوبته: 13) فان جنحوا للسلم فاجنح لها (الانفال: 62) دیکھوسورۃ الانفال الجز و نمبر 10 ( ترجمہ ) کیا تم ایسی قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں تو ڑ ڈالیں اور چاہا کہ رسول خدا کو جلا وطن کر دیں اور انہوں نے ہی پہلے تمہیں قتل کرنا شروع کیا۔اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔یعنی تم اس خیال سے کیوں ڈرتے ہو کہ ہم بہت ہی تھوڑے ہیں اور کفار مار میں بہت ہیں ہم کیونکر ان سے لڑ سکتے ہیں۔(پیغام صلح۔رخ۔جلد 23 صفحہ 393/94) أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (الحج: 40) اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زمانہ میں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا تھا۔آپ کے بہت سے جان نثار اور عزیز دوست ظالم کفار کے تیر و تفنگ کا نشانہ بنے اور طرح طرح کے قابل شرم عذاب ان لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پہنچائے حتی کہ آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کر لیا۔چنانچہ آپ کا تعاقب بھی کیا۔آپ کے قتل کرنے والے کے واسطے انعام مقرر کئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے۔تعاقب کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی گئی۔مگر یہ تو خدا تعالے کا تصرف تھا کہ آپ کو ان کی نظروں سے باوجود سامنے ہونے کے بچالیا اور ان کی آنکھوں میں خاک ڈال کر خود اپنے رسول کو ہاتھ دے کر بچا