حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 461 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 461

461 اتفاق ہے۔پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : 111) اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحه : 6,7) ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہر تی تھی اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اس کا سکھلا نا بھی عبث ٹھہرتا تھا مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فردامت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے۔پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ نامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو نانی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے۔ایسے طور پر کہ ان کا وجود اپنا وجود نہ رہا بلکہ ان کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہو گیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمه مخاطبہ الہیہ نبیوں کی طرح ان کو نصیب ہوا۔(رسالہ الوصیت۔رخ۔جلد 20 صفحہ 312-311) زبان عرب میں لکن کا لفظ استدراک کے لئے آتا ہے یعنی جو امر حاصل نہیں ہو سکا۔اس کے حصول کی دوسرے پیرا یہ میں خبر دیتا ہے جس کے رو سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی مگر روحانی طور پر آپ کی اولاد بہت ہوگی اور آپ تنبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مہر کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔(چشمہ مسیحی۔رخ۔جلد 20 صفحہ 389-388) نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے گی نہیں اور نہ اس کو شرف مکالمات اور مخاطبات ہوگا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی۔اس امت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عالیجناب اولوالعزم صاحب شریعت کمال آنے والے تھے اسی وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھا گیا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بند ہو چکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ ابَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔(الاحزاب: 41) (ملفوظات جلد سوم صفحہ 248)