حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 436
436 حضرت اقدس کے ذکر کے اعتبار سے یا درکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دوفتوں سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے (۱) اوّل یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کا فرقراردیا۔اس کی توہین کرنا۔اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا۔اس کے قتل کا فتویٰ دینا۔جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے (۲) دوسرے نصاری کے فتنے سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاریٰ ایک سیل عظیم کی طرح ہو گا۔اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔غرض اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس عاجز کی نسبت قرآن شریف نے اپنی پہلی سورۃ میں ہی گواہی دے دی۔ورنہ ثابت کرنا چاہیئے کہ کن مغضوب علیہم سے اس سورۃ میں ڈرایا گیا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حدیث اور قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بعض علماء کو یہود سے نسبت دی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مغضوب علیہم سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جو سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ اور مسیح موعود تھے کا فرٹھیرایا تھا اور انکی سخت توہین کی تھی اور ان کے پرائیویٹ امور میں افترائی طور پر نقص ظاہر کئے تھے۔پس جبکہ یہی لفظ مغضوب علیہم کا ان یہودیوں کے مثیلوں پر بولا گیا جن کا نام بوجہ تکفیر وتو بین حضرت میسج مغضوب علیہم رکھا گیا تھا۔پس اس جگہ مغضوب علیہم کے پورے مفہوم کو پیش نظر رکھ کر جب سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ آنے والے مسیح موعود کی نسبت صاف اور صریح پیشگوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے پہلے مسیح کی طرح ایذا اٹھائے گا۔اور یہ دعا کہ یا الہی ہمیں مغضوب علیہم ہونے سے بچا اس کے قطعی اور یقینی معنے ہیں کہ ہمیں اس سے بچا کہ ہم تیرے مسیح موعود کو جو پہلے مسیح کا مثیل ہے ایذاء نہ دیں اس کو کافر نہ ٹھیرائیں۔ان معنوں کے لئے یہ قرینہ کافی ہے کہ مغضوب علیہم صرف ان یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذاء دی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہو درکھا گیا ہے یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکثیر و تو ہین کی تھی۔اور اس دعا میں ہے کہ یا الہی ہمیں وہ فرقہ مت بنا جن کا نام مغضوب علیہم ہے۔پس دعا کے رنگ میں یہ ایک پیشگوئی ہے جو دو خبر پر ہے۔ایک یہ کہ اس امت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا۔اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس امت میں سے اس کی بھی تکفیر اور توہین کرینگے اور وہ لوگ مورد غضب الہی ہونگے اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاری بھی ان دنوں میں حد سے بڑھا ہو ا ہوگا۔جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہو نگے۔اور اس جگہ مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکثیر و توہین و ایذاء وارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الہی نازل ہوگا۔یہ میرے جانی دشمنوں کیلئے قرآن کی پیشگوئی ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ اگر چہ جو شخص راہ راست کو چھوڑتا ہے۔وہ خدا تعالے کے غضب کے نیچے آتا ہے۔مگر خدا تعالے کا اپنے مجرموں سے دو قسم کا معاملہ ہے اور مجرم دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ مجرم ہیں جو حد سے زیادہ نہیں بڑھتے اور گو نہایت درجہ کے تعصب سے ضلالت کو نہیں چھوڑتے مگر وہ ظلم اور ایذاء کے مشتمل