حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 430 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 430

430 محبت الہی روحانیت کے نشو و نما اور زندگی کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو کہ اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقره: 166) کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پر عمل کرو اور ایسی فناء اتم تم پر آ جاوے کہ تَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيْلاً (المزمل :9) کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ۔اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کرلو۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 559،558) قرآن شریف کی تعلیم کا خلاصہ مغز کے طور پر یہی بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اس قدر استیلاء کرے کہ ماسوی اللہ جل جاوے یہی وہ عمل ہے جس سے گناہ جلتے ہیں اور یہی وہ نسخہ ہے جو اسی عالم میں انسان کو وہ حواس اور بصیرت عطا کرتا ہے جس سے وہ اُس عالم کی برکات اور فیوض کو اس عالم میں پاتا ہے اور معرفت اور بصیرت کے ساتھ یہاں سے رخصت ہوتا ہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو اس زمرہ سے الگ ہیں۔مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى (بنی اسرائیل : 73) اور ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا ہے۔وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمن : 47) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں ان کو دو جنت ملتے ہیں۔ہمارے نزدیک اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک جنت تو وہ ہے جو مرنے کے بعد ملتی ہے۔دوسری جنت اسی دنیا میں عطا ہوتی ہے اور یہی جنت اس دوسری جنت کے ملنے اور عطا ہونے پر بطور گواہ واقعہ ٹھہر جاتی ہے۔ایسا مومن دنیا میں بہت سے دوز خوں سے رہائی پاتا ہے۔مختلف قسم کی بد اخلاقیاں یہ بھی دوزخ ہی ہیں۔جن چیزوں سے شدید تعلق ہو جاتا ہے۔وہ بھی ایک قسم کا دوزخ ہی ہے۔کیونکہ پھر ان کو چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہے۔مثلا مال سے محبت ہو اور اسے چور لے جائیں تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات ایسے لوگ مر ہی جاتے ہیں یا ان کی زبان بند ہو جاتی ہے۔اسی طرح پر اور جن فانی اشیاء سے محبت ہے وہ اگر تلف ہو جائیں یا مر جاویں تو اس کو سخت رنج اور صدمہ ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 398-397)