حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 417
417 قرآن کریم کے بیان کی ترتیب صحیفہ قدرت کے مطابق ہے رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔اس جگہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائیں۔یعنے رب العالمین۔رحمان رحیم۔مالک یوم الدین۔اور ان ہر چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمان کو ذکر کیا۔پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔پھر سب کے اخیر صفت مالک یوم الدین کو لائے۔پس سمجھنا چاہیئے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی۔اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبیعی یہی ہے۔اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 444 حاشیہ نمبر 11 ) یہ فیوض اربعہ ہیں جن کو ہم نے تفصیل وار لکھ دیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ صفت رحمان کو صفت رحیم پر مقدم رکھنا نہایت ضروری اور مقتضائے بلاغت کا ملہ ہے کیونکہ صحیفہ قدرت پر جب نظر ڈالی جائے تو پہلے پہل خدائے تعالیٰ کی عام ربوبیت پر نظر پڑتی ہے۔پھر اسکی رحمانیت پر۔پھر اسکی رحیمیت پر۔پھر اسکے مالک یوم الدین ہونے پر اور کمال بلاغت اسی کا نام ہے کہ جو صحیفہ فطرت میں ترتیب ہو۔وہی ترتیب صحیفہء الہام میں بھی ملحوظ رہے۔کیونکہ کلام میں ترتیب قدرتی کا منقلب کرنا گویا قانون قدرت کو منقلب کرنا ہے اور نظام طبعی کو الٹاد دینا ہی کلام بلیغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ نظام کلام کا نظام طبعی کے ایسا مطابق ہو کہ گویا اسی کی عکسی تصویر ہو۔اور جو امر طبعا اور وقوعاً مقدم ہو۔اسکو وضعاً بھی مقدم رکھا جائے۔سو آیت موصوفہ میں یہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے کہ با وجود کمال فصاحت اور خوش بیانی کے واقعی ترتیب کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور وہی طرز بیان اختیار کی ہے جو کہ ہر یک صاحب نظر کو نظام عالم میں بدیہی طور پر نظر آ رہی ہے۔کیا یہ نہایت سیدھا راستہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے نعماء الہی صحیفہ فطرت میں واقعہ ہیں۔اسی ترتیب سے صحیفہ الہام میں بھی واقعہ ہوں۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 456 حاشیہ نمبر 11 )