حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 414 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 414

414 قرآن کریم میں اول سے آخر تک ظاہری ترتیب کا لحاظ رکھا ہے لیکن اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ اس بات پر دلیل کیا ہے کہ قرآن شریف میں اول سے آخر تک ظاہری ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔بجز دو چار مقام کے جو بطور شاذ و نادر ہیں۔تو یہ ایک سوال ہے کہ خود قرآن شریف پر ایک نظر ڈال کر حل ہو سکتا ہے۔یعنے اسپر یہ دلیل کافی ہے کہ اگر تمام قرآن اول سے آخر تک پڑھ جاؤ تو بجز چند مقامات کے جو بطور شاذ و نادر کے ہیں۔باقی تمام قرآنی مقامات کو ظاہری ترتیب کی ایک زرین زنجیر میں منسلک پاؤ گے۔اور جس طرح اس حکیم کے افعال میں ترتیب مشہور ہورہی ہے یہی ترتیب اس کے اقوال میں دیکھو گے۔اور یہ اس بات پر کہ قرآن ظاہری ترتیب کو ملحوظ رکھتا ہے۔ایسی پختہ اور بدیہی اور نہایت قوی دلیل ہے کہ اس دلیل کو سمجھ کر اور دیکھ کر بھی پھر مخالفت سے زبان کو بند نہ رکھنا صریح بے ایمانی اور بد دیانتی ہے۔اگر ہم اس دلیل کو مبسوط طور پر اسجگہ لکھیں تو گویا تمام قرآن شریف کو اس جگہ درج کرنا ہوگا اور اس مختصر رسالہ میں یہ گنجائش نہیں۔یہ تو ہم قبول کرتے ہیں شاذ و نادر کے طور پر قرآن شریف میں ایک دو مقام ایسے بھی ہیں۔کہ جن میں مثلا عیسی پہلے آیا اور موسیٰ بعد میں آیا۔یا کوئی اور نبی متاخر جو پیچھے آنے والا تھا اس کا نام پہلے بیان کیا گیا۔اور جو پہلا تھا، وہ پیچھے بیان کیا گیا۔لیکن یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ چند مقامات بھی خالی از ترتیب ہیں۔بلکہ ان میں بھی ایک معنوی ترتیب ہے جو بیان کرنے کے سلسلہ میں بعض مصالح کی وجہ سے پیش آگئی ہے۔لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ قرآن کریم ظاہری ترتیب کا اشد التزام رکھتا ہے اور ایک بڑا حصہ قرآنی فصاحت اسی سے متعلق ہے۔تریاق القلوب۔رخ۔جلد 15 صفحہ 456 حاشیہ ) قرآن کریم کے بیان میں ترتیب کی اہمیت یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم الہی کلام کی کسی آیت میں تغییر اور تبدیل اور تقدیم اور تا خیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ہیں مگر صرف اس صورت میں کہ جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بذات خود ایسی تغییر اور تبدیل کی ہے اور جیتک ایسا ثابت نہ ہو تو ہم قرآن کی ترصیع اور ترتیب کو زیروز بر نہیں کر سکتے اور نہ اس میں اپنی طرف سے بعض فقرات ملا سکتے ہیں۔اور اگر ایسا کریں تو عنداللہ مجرم اور قابل مواخذہ ہیں۔اتمام الحجة - ر - خ - جلد 8 صفحہ 291) قرآن شریف کی ظاہری ترتیب پر جو شخص دلی یقین رکھتا ہے اس پر صد ہا معارف کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور صد بابار یک در باریک نکات تک پہونچنے کے لئے یہ ترتیب اسکور ہنما ہو جاتی ہے اور قرآن دانی کی ایک کنجی اسکے ہاتھ میں آجاتی ہے گو یا ترتیب ظاہری کے نشانوں سے قرآن خود اسے بتلاتا جاتا ہے کہ دیکھو میرے اندر یہ خزانے ہیں لیکن جو شخص قرآن کی ظاہری ترتیب سے منکر ہے وہ بلاشبہ قرآن کے باطنی معارف سے بھی بے نصیب ہے۔منہ دیکھو خدا تعالیٰ کے نظام شمسی میں کیسی ترتیب پائی جاتی ہے اور خود انسان کی جسمانی ہیکل کیسی ابلغ اور احسن ترتیب پر مشتمل ہے پھر کس قدر بے ادبی ہوگی اگر اس احسن الخالقین کے کلمات پر حکمت کو پراگندہ اور غیر منتظم اور بے ترتیب خیال کیا جائے۔منہ تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 457-456 حاشیہ )