حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 373
373 عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِینًا اس سے ظاہر ہے کہ کامل تعلیم کا دعوی کرنے والا صرف قرآن شریف ہی ہے اور ہم اپنے موقعہ پر بیان کریں گے کہ جیسا کہ قرآن شریف نے دعوی کیا ہے ویسا ہی اس نے اس دعوے کو پورا کر کے دکھلا بھی دیا ہے اور اس نے ایک ایسی کامل تعلیم پیش کی ہے جس کو نہ توریت پیش کر سکی اور نہ انجیل بیان کر سکی۔پس اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ وہ تعلیم کی رو سے ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہے اور کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 21 صفحہ 5-3 ) آؤ عیسائیو!! ادھر آؤ!!! نور حق دیکھو! راہ حق پاؤ! جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ! درد مندوں کی ہے دوا وہی ایک ہے خدا سے خدا نما وہی ایک ہم نے پایا خور ھدی وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دل رُبا وہی ایک اُس کے منکر جو بات کہتے ہیں! یوں ہی اک واہیات کہتے ہیں! بات جب ہو کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اس دل ستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی۔یونہی امتحان سہی خور بمعنی روشنی یا مینار در نشین اردو صفحہ 54 ) ( براہین احمدیہ - ر - خ - جلد 1 صفحہ 299-298 حاشیه در حاشیہ نمبر 2) دیگر کتب مختص الزمان مختص القوم تھیں میں اعتراض نہیں کرتا بلکہ میرا مقصد اس بیان سے اس امر کا اظہار ہے کہ یہ دونو کتا بیں صرف ایک ہی خاندان کی تھیں۔نہ حضرت عیسی نے اور نہ حضرت موسیٰ نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ تمام دنیا کے واسطے رسول ہو کر آئے تھے بلکہ وہ تو صرف اسرائیلی بھیڑوں تک ہی اپنی تعلیم محدود کرتے ہیں۔ان کا اپنا اقرار موجود ہے۔پس بلحاظ ضرورت کے ان کو جو کتاب ملی وہ بھی ایک قانون مختص الزمان اور مختص القوم تھا۔اب ظاہر ہے کہ ایک چیز جو ایک خاص ضرورت کے لیے ایک خاص زمانے اور مکان کے واسطے آئی تھی۔اگر اس کو زبردستی اور خواہ نخواہ تمام دنیا پر محیط ہونے کے واسطے کھینچ تان کی جائے گی تو اس کا لازماً یہی نتیجہ ہو گا کہ وہ اس کام سے عاری رہے گی جس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے وہ وضع ہی نہیں کی گئی اس کی کیسے متحمل ہو سکے گی؟ اور یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمات میں موجودہ زمانہ کے حالات کے ماتحت نقص ہیں۔مگر قرآن مجید مختص الزمان نہیں، مختص القوم نہیں اور نہ ہی مختص المکان ہے بلکہ اس کامل اور مکمل کتاب کے لانے والے کا دعوی ہے کہ اپنی رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159) اور ایک دوسری آیت میں یوں بھی آیا ہے۔لِانْذِرَكُمْ بِهِ وَ مَنْ بَلَغَ (الانعام: 20) یعنی لازمی ہوگا کہ جس کو قرآنی تعلیم پہنچے وہ خواہ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی ہو اس تعلیم کی پیروی کو اپنی گردن پر اٹھائے۔