حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 323
323 نزول قرآن ضرورت حقہ کے مطابق ہوا ہے خدا کا پاک اور کامل کلام کہ جو اس کے فرائض اور احکام کو دنیا میں لایا اور اس کے ارادوں سے خلق اللہ کو مطلع کیا انہیں خاص وقتوں میں نازل ہوا ہے کہ جب اس کے نازل ہو نیکی ضرورت تھی ہاں یہ ضرور ہے کہ خدا کا پاک کلام انہیں لوگوں پر نازل ہو کہ جو تقدس اور پاک باطنی میں اعلیٰ درجہ رکھتے ہوں کیونکہ پاک کو پلید سے کچھ میل اور مناسبت نہیں لیکن یہ ہرگز ضرور نہیں کہ ہر جگہ تقدس اور پاک باطنی کلام الہی کے نازل ہونے کو مستلزم ہو بلکہ خدائے تعالیٰ کی حقانی شریعت اور تعلیم کا نازل ہونا ضرورات حقہ سے وابستہ ہے پس جس جگہ ضرورات حقہ پیدا ہو گئیں اور زمانہ کی اصلاح کے لیے واجب معلوم ہوا کہ کلام الہی نازل ہواُسی زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے جو حکیم مطلق ہے اپنے کلام کو نازل کیا۔(براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 416 حاشیہ نمبر 11) وَ بِالْحَقِّ أَنْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا( بنی اسرائیل: 106 ) اور ہم نے اس کلام کو ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ یہ اترا ہے یعنی یہ کلام فی حد ذاتہ حق اور راست ہے اور اس کا آنا بھی تھا اور ضرورتا ہے یہ نہیں کہ فضول اور بے فائدہ اور بے وقت نازل ہوا ہے۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 650-649) اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔(الحديد: 18 ) پس رحمان مطلق جیسا جسم کی غذا کو اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمت کا ملہ کے تقاضا سے روحانی غذا کو بھی ضرورت حقہ کے وقت مہیا کر دتیا ہے ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام انہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور انہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہے مگر یہ بات ہرگز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اس پر خواہ نخواہ بغیر کسی ضرورت حقہ کے کتاب آسمانی نازل ہو جایا کرے یا خدائے تعالیٰ یونہی بلا ضرورت حقہ کسی کی طہارت لازمی کی وجہ سے لازمی اور دائمی طور پر اس سے ہر وقت باتیں کرتا رہے بلکہ خدا کی کتاب اسی وقت نازل ہوتی ہے جب فی الحقیقت اس کے نزول کی ضرورت پیش آجائے۔( براھین احمدیہ۔ر۔خ جلد 1 صفحہ 420-419 حاشیہ نمبر 11)