حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 315 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 315

315 تقویٰ کے مضمون پر ہم کچھ شعرلکھ رہے تھے اس میں ایک مصرعہ الہامی درج ہوا۔وہ شعر یہ ہے۔ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتنا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے “ اس میں دوسرا مصرعہ الہامی ہے۔جہاں تقویٰ نہیں وہاں حسنہ حسنہ نہیں اور کوئی نیکی نیکی نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی تعریف میں فرماتا ہے۔ھدی للمتقين (البقره:3) قرآن بھی ان لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہوتا ہے جو تقوی اختیار کریں۔ابتدا میں قرآن کے دیکھنے والوں کا تقویٰ یہ ہے کہ جہالت اور حسد اور بخل سے قرآن شریف کو نہ دیکھیں بلکہ نور قلب کا تقویٰ ساتھ لے کر صدق نیت سے قرآن شریف کو پڑھیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 536) بار بار قرآن شریف کو پڑھو اور تمہیں چاہئے کہ برے کاموں کی تفصیل لکھتے جاؤ اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے کوشش کرو کہ ان بدیوں سے بچتے رہو۔یہ تقویٰ کا پہلا مرحلہ ہوگا۔جب تم ایسی سعی کرو گے تو اللہ تعالے پھر تمہیں توفیق دے گا اور وہ کا فوری شربت تمہیں دیا جاوے گا جس سے تمہارے گناہ کے جذبات بالکل سرد ہو جائیں گے اس کے بعد نیکیاں ہی سرزد ہونگی۔جب تک انسان متقی نہیں بنتا یہ جام اسے نہیں دیا جا تا اور نہ اس کی عبادات اور دعاؤں میں قبولیت کا رنگ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انـــمــــــا يتقبل الله مـــن المتقين (المائدة: 28) یعنی بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں ہی کی عبادات کو قبول فرماتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ نماز روزہ بھی متقیوں ہی کا قبول ہوتا ہے۔تلاوت قرآن اور معارف قرآن ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 656) غرض قرآن شریف کی اصل غرض اور غایت دنیا کو تقوی کی تعلیم دینا ہے۔جس کے ذریعہ وہ ہدایت کے منشاء کو حاصل کر سکے۔اب اس آیت میں تقویٰ کے تین مراتب کو بیان کیا ہے۔الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4) لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر طوطے کی طرح یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں۔جیسے ایک پنڈت اپنی پوتھی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے۔نہ خود سمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتہ لگتا ہے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لئے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سر لگا کر پڑھ لیا اور ق اور ع کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا بھی ایک اچھی بات ہے۔مگر قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 284 285)