حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 295 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 295

295 ہی فرقہ (یعنی نصاریٰ) کا ذکر ہے صرف فرق یہ ہے کہ سورۃ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت کا بیان ہے اور سورت فلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 271-272 بقیہ حاشیہ ) حضرت اقدس کا ذکر قرآن کریم کے اول و آخر میں سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھائی گئی ہیں (۱) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو سیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم علیہم کی جماعتیں ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دو ہی ہیں ایک صحابہ کی جماعت۔دوسری و اخرین منہم کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو دل میں یہی محوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔یہ تو سورہ فاتحہ کی پہلی دعا ہے (۲) دوسری دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دکھ دیں گے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورہ تبت یدا ابی لھب ہے (۳) تیسری دعا ولا الضالین ہے۔اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورہ اخلاص ہے یعنی قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ تبت اور سورۃ اخلاص کے بطور شرح ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جب کہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی پس سورہ فاتحہ میں ان تینوں دعاؤں کی تعلیم بطور براعت الاستملال ہے یعنی وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورہ تبت اور سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا۔اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔اور یادر ہے کہ ان دونوں فتنوں کا قرآن شریف میں مفصل بیان ہے اور سورہ فاتحہ اور آخری سورتوں میں اجمالاً ذکر ہے۔مثلا سورہ فاتحہ میں دعا ولا الضالین میں صرف دو لفظ میں سمجھایا گیا ہے کہ عیسائیت کے فتنہ سے بچنے کے لئے دعا مانگتے رہو جس سے سمجھا جاتا ہے کہ کوئی فتنہ عظیم الشان در پیش ہے جس کے لئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ نماز کے پنج وقت میں یہ دعا شامل کر دی گئی اور یہاں تک تاکید کی گئی کہ اس کے بغیر نماز ہو نہیں سکتی جیسا کہ حدیث لاصَلوةَ إِلَّا بِالفَاتِحَةِ سے ظاہر ہوتا ہے۔