حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 237
237 عذاب کے نازل ہونے کی خبر کے اعتبار سے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔(بنی اسرائیل: 16) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انبیاء اور رسل آتے ہیں وہ ایک وقت تک صبر کرتے ہیں اور مخالفوں کی مخالفت جب انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو ایک وقت توجہ نام سے اقبال علی اللہ کر کے فیصلہ چاہتے ہیں اور پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْد۔اسْتَفْتَحُوا سنت اللہ کو بیان کرتا ہے کہ وہ اس وقت فیصلہ چاہتے ہیں اور اس فیصلہ چاہنے کی خواہش ان میں پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب گویا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 158) اس سے مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں ثابت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص غور اور ایمانداری سے قرآن شریف کو پڑھے گا اس پر ظاہر ہو گا کہ آخری زمانہ کے سخت عذابوں کے وقت جبکہ اکثر حصے زمین کے زیروز بر کئے جائیں گے اور سخت طاعون پڑے گی اور ہر ایک پہلو سے موت کا بازار گرم ہوگا اس وقت ایک رسول کا آنا ضروری ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک عذاب سے پہلے رسول نہ بھیج دیں۔پھر جس حالت میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے وقت میں رسول آئے ہیں جیسا کہ زمانہ کے گذشتہ واقعات سے ثابت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا ہے جس کی نسبت تمام نبیوں نے پیشگوئی کی تھی خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ لازم آتی ہے۔(تتمہ حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 499) آیت قرآنی وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً سے صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کے قہری عذاب کے نازل ہونے سے پہلے خدا کی طرف سے کوئی رسول ضرور مبعوث ہوتا ہے جو خلقت کو آنے والے عذاب سے ڈراتا ہے اور یہ عذاب اس کی تصدیق کے واسطے قہری نشانات ہوتے ہیں۔اس وقت بھی خدا کا ایک رسول تمہارے درمیان ہے جو مدت سے تم کو ان عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہے۔پس سوچو اور ایمان لاؤ تا کہ نجات پاؤ۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 530 حاشیہ ) وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً اس میں حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے اس کو کسی کی پرواہ نہیں۔پس جب نبی پیدا ہوتا ہے اور وہ دعائیں کرتا ہے تب ان دعاؤں کے اثر سے عذاب نازل ہوتا ہے اور وہ عذاب اگر چہ گذشتہ گناہوں کی شامت سے ہو مگر نبی کی دعاؤں سے ہوتا ہے اسی طرح اگر چہ کوئی مجھ سے ناواقف اور بے خبر ہو یورپ میں یا امریکہ میں مگر میری دعائیں اس کے عذاب کا موجب ہو جاتی ہیں اور وہ عذاب نہیں آتا ہے جب تک میری دعائیں اس کو ظاہر نہ کریں یہی معنے ہیں اس آیت کے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً - ( تفسیر حضرت اقدس سورۃ بنی اسرائیل جلد 5 صفحہ 203) ( الفضل جلد 1 نمبر 29 مورخہ 31 دسمبر 1913 صفحہ 9) اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے جیسا کہ خدا نے فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً۔اور تو بہ کرنے والے امان پائیں گے اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں ان پر رحم کیا جائے گا۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 268)