حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 198
198 آدم ہزار ششم میں ہونے کے اعتبار سے وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔(الحج:48) اس عاجز کو جو خدا تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا اس کا یہ نشان رکھا کہ الف ششم میں جو قائم مقام روز ششم ہے یعنی آخری حصہ الف میں جو وقت عصر سے مشابہ ہے اس عاجز کو پیدا کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ۔(الحج: 48) اور ضرور تھا کہ وہ ابن مریم جس کا انجیل اور فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے وہ آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں ظہور کرتا۔سو آدم اول کی پیدائش سے الف ششم میں ظاہر ہونے والا یہی عاجز ہے۔بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز ظہور پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا ہے سو وہ یہی ہے جو پیدا ہو گیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 476-475) قرآن شریف سے بھی صاف طور پر یہی نکلتا ہے کہ آدم سے اخیر تک عمر بنی آدم کی سات ہزار سال ہے اور ایسا ہی پہلی تمام کتابیں بھی با تفاق یہی کہتی ہیں اور آیت اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الحج : 48) سے بھی یہی نکلتا ہے اور تمام نبی واضح طور پر یہی خبر دیتے آئے ہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں سورة وَالْعَصْرِ کے اعداد سے بھی یہی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آدم سے الف پنجم میں ظاہر ہوئے تھے اور اس حساب سے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ہزار ہفتم ہے۔جس بات کو خدا نے اپنی وحی سے ہم پر ظاہر کیا اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہم کوئی وجہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے پاک نبیوں کے متفق علیہ کلمہ سے انکار کریں۔پھر جبکہ اس قدر ثبوت موجود ہے اور بلاشبہ احادیث اور قرآن شریف کے رو سے یہ آخری زمانہ ہے پھر آخری ہزار ہونے میں کیا شک رہا۔اور آخری ہزار کے سر پر مسیح موعود کا آنا ضروری ہے۔لیکچر سیالکوٹ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 210-209)