حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 186
186 تفسير مغضوب عليهم اور ضالین “ حضرت اقدس کے فرمودات کے مطابق الْمَغْضُوبِ عَلَيْہم سے وہ علماء یہودی مراد ہیں جنہوں نے شدت عداوت کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ بھی روانہ رکھا کہ اُن کو مومن قرار دیا جائے بلکہ کا فرکہا اور واجب القتل قرار دیا اور مغضوب علیہ وہ شدید الغضب انسان ہوتا ہے جس کے غضب کے غلو پر دوسرے کو غضب آوے اور یہ دونوں لفظ با ہم مقابل واقع ہیں یعنی ضالین وہ ہیں جنہوں نے افراط محبت سے حضرت عیسی کو خدا بنایا اور اَالمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وہ یہودی ہیں جنہوں نے خدا کے مسیح کو افراط عداوت سے کافر قرار دیا اس لئے مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ میں ڈرایا گیا اور اشارہ کیا گیا کہ تمہیں یہ دونوں امتحان پیش آئیں گے مسیح موعود آئے گا اور پہلے مسیح کی طرح اس کی بھی تکفیر کی جائیگی اور ضالین یعنی عیسائیوں کا غلبہ بھی کمال کو پہنچ جائے گا جو حضرت عیسی کو خدا کہتے ہیں تم ان دونوں فتنوں سے اپنے تھیں بچاؤ اور بچنے کے لئے نمازوں میں دعائیں کرتے رہو۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 269 حاشیه در حاشیه ) سورۃ فاتحہ میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہ کر مسیح موعود کی پیشگوئی فرمائی۔اور پھر اس سورۃ میں مغضوب اور ضالین دو گروہوں کا ذکر کر کے یہ بھی بتا دیا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس وقت ایک قوم مخالفت کرنے والی ہوگی جو مغضوب قوم یہودیوں کے نقش قدم پر چلے گی اور ضالین میں یہ اشارہ کیا کر قتل دجال اور کسر صلیب کے لئے آئے گا۔کیونکہ مغضوب سے یہود اور ضالین سے نصاری بالاتفاق مراد ہیں۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 32) ضالین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔یہ سورۃ در حقیقت بڑے دقائق اور حقائق کی جامع ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں اور اس سورۃ کی یہ دعا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یہ صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اس امت کے لئے ایک آنے والے گروہ مغضوب علیہم کے ظہور سے اور دوسرے گروہ ضالین کے غلبہ کے زمانے میں ایک سخت ابتلاء در پیش ہے جس سے بچنے کے لئے پانچ وقت دعا کرنی چاہیئے اور یہ دعا سورۃ فاتحہ کی اس طور پر سکھائی گئی کہ پہلے الحمد للہ سے مالک یوم الدین تک خدا کے محامد اور صفات جمالیہ اور جلالیہ ظاہر فرمائے گئے تادل بول اٹھے کہ وہی معبود ہے چنانچہ انسانی فطرت نے ان پاک صفات کا دلدادہ ہو کر إِيَّاكَ نَعْبُد کا اقرار کیا اور پھر اپنی کمزوری کو دیکھا تو إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنا پڑا اور پھر خدا سے مدد پا کر یہ دعا کی جو جمیع اقسام شر سے بچنے کے لئے اور جمیع اقسام خیر کو جمع کرنے کے لئے کافی و وافی ہے یعنی یہ دعا که اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِا لْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - امین (تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 284 285 حاشیہ)