حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 150
150 وَهَهُنَا نُكْتَةٌ كَشفِيَّةٌ لَّيْسَتْ مِنَ الْمَسْمُوعَ فَاسْمَعُ مُصْغِيَا وَعَلَيْكَ بِالْمَوْدُوعِ وَهُوَأَنَّهُ تَعَالَى مَا اخْتَارَ لِنَفْسِهِ هُهُنَا أَرْبَعَةٌ مِّنَ الصِّفَاتِ إِلَّا لِيُرِيَ نَمُوذَجَهَا فِي هذِهِ الدُّنْيَا قَبْلَ الْمَمَاتِ فَأَشَارَ فِى قَوْلِهِ لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ “۔(القصص: ع 7) إلى أَنَّ هَذَا النَّمُوذَجَ يُعْطى لِصَدْرِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ لِلْاخَرِينَ مِنَ الْأُمَّةِ الدَّاخِرَةِ وَكَذَالِكَ قَالَ فِي مَقَامِ اخَرَ وَهُوَ اصْدَقُ الْقَائِلِينَ - "ثلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخَرِيْنَ“۔(الواقعة : 2) فَقَسَّمَ زَمَانَ الْهِدَايَةِ وَالْعَوْنِ وَالنُّصْرَةِ إِلَى زَمَانِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى الزَّمَانِ الْآخِرِ الَّذِي هُوَ زَمَانُ مَسِيحَ هَذِهِ الْمِلَّةِ - وَكَذَالِكُ قَالَ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمد (1) فَأَشَارَ إِلَى الْمَسِيحِ الْمَوْعُوُدِ وَجَمَاعَتِهِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ فَثَبَتَ بِنُصُوصٍ بَيِّنَةٍ مِّنَ الْقُرْآنِ أَنَّ هذِهِ الصِّفَاتِ قَدْ ظَهَرَتْ فِي زَمَنِ نَبِيِّنَا ثُمَّ تَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ یہاں ایک کشفی نکتہ ہے جو پہلے کبھی نہیں سنا گیا۔پس کان لگا کر اطمینان سے سنو اور وہ نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی ذات کے لئے چار صفات کو محض اس لئے اختیار کیا ہے کہ تا وہ اس دنیا میں ہی انسان کو ( یعنی دنیا کی ) موت سے پہلے ان صفات کا نمونہ دکھائے۔پس اس نے اپنے کلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأَوْلى وَالْآخِرَةِ (ابتدائے آفرینش میں بھی وہی تعریف کا مستحق تھا اور آخرت میں بھی وہی تعریف کا مستحق ہوگا) میں اشارہ فرمایا کہ یہ نمونہ آغاز اسلام میں بھی عطا کیا جائے گا۔اور پھر امت کی خواری کے بعد اس کے آخری لوگوں کو بھی ( عطا کیا جائے گا ) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ ( قرآن میں ) فرمایا ہے اور وہ بات کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ سچا ہے ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الآخرين ( اصحاب الیمین کا یہ گروہ شروع میں ایمان لانے والے لوگوں میں بھی کثرت سے ہوگا اور آخر میں ایمان لانے والے لوگوں میں بھی کثرت سے ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ نے ہدایت ، مدد اور نصرت کے زمانہ کو ہمارے نبی کریم ﷺ کے زمانہ پر اور اس آخری زمانہ پر جو اس امت کے مسیح کا زمانہ ہے تقسیم کر دیا۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (ترجمہ: اور اسی طرح ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی ( وہ اس کو بھیجے گا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملی)۔اس میں مسیح موعود، اس کی جماعت اور ان کے تابعین کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔پس قرآن کریم کی نصوص بینہ سے ثابت ہوا کہ یہ صفات ہمارے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں بھی ظاہر ہوئیں۔پھر آخری زمانہ میں بھی ظاہر ہوں گی۔اعجاز اسیح - رخ جلد 18 صفحہ 153-154) ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرِيَ نَمُوذَجَ هَذِهِ الصِّفَاتِ فِي آخِرِينَ مِنَ الْأُمَّةِ لِيَكُونَ اخِرُ الْمِلَّةِ كَمِثْلِ أَوَّلِهَا فِي الْكَيْفِيَّةِ وَلِيَتمَّ أَمْرُ الْمُشَابَهَةِ بِالْأُمَمِ السَّابِقَةِ - كَمَا أُشِيْرَ إِلَيْهِ فِي هَذِهِ السُّورَةِ أَعْنِي قَوْلَهُ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فَتَدَبَّرُ الْفَاظَ هَذِهِ الْآيَةِ وَسُمِّيَ زَمَانُ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ يَوْمَ الدِّيْنِ لِأَنَّهُ زَمَانٌ يُحْيِي فِيهِ الدِّينُ وَتُحْشَرُ النَّاسُ لِيُقْبِلُوا بِالْيَقِينِ وَلَا شَكٍّ وَلَا خِلَافَ أَنَّهُ رَتَّى زَمَانَنَا هَذَا بِأَنْوَاعِ التَّرْبِيَةِ وَأَرَانَا كَثِيرًا مِّنْ فُيُوضِ الرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ - كَمَا أَرَى السَّابِقِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ وَأَرْبَابِ الْوَلَايَةِ وَالْخُلْقِةِ - اعجاز اسیح - رخ جلد 18 صفحہ 146-148)