حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 149
149 جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والے کا فرض جو شخص عام مسلمانوں میں سے ہماری جماعت میں داخل ہو جائے اس کا پہلا فرض یہی ہے کہ جیسا کہ قرآن شریف کے سورہ فاتحہ میں پنج وقت اپنی نماز میں یہ اقرار کرتا ہے کہ خدا رب العالمین ہے اور خدا رحمان ہے اور خدارحیم ہے اور خدا ٹھیک ٹھیک انصاف کرنے والا ہے۔یہی چاروں صفتیں اپنے اندر بھی قائم کرے ورنہ وہ اس دعا میں کہ اسی سورۃ میں پنج وقت اپنی نماز میں کہتا ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُد یعنی اے ان چار صفتوں والے اللہ میں تیرا ہی پرستار ہوں اور تو ہی مجھے پسند آیا ہے سراسر جھوٹا ہے کیونکہ خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مربی بنا اور ادنیٰ سے ادنی جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ کرنے والا خدا کی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کرلے تا اپنے محبت کے رنگ میں آجائے ایسا ہی خدا کی رحمانیت یعنی بغیر عوض کسی خدمت کے مخلوق پر رحم کرنا یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جس کو یہ دعویٰ ہے کہ میں خدا کے نقش قدم پر چلتا ہوں ضرور یہ خلق بھی اپنے اندر پیدا کرتا ہے ایسا ہی خدا کی رحیمیت یعنی کسی کے نیک کام میں اس کام کی تکمیل کیلئے مددکرنا۔یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جو خدائی صفات کا عاشق ہے اس صفت کو اپنے اندر حاصل کرتا ہے ایسا ہی خدا کا انصاف جس نے ہر ایک حکم عدالت کے تقاضا سے دیا ہے نہ نفس کے جوش سے یہ بھی ایک ایسی صفت ہے کہ سچا عابد کہ جو تمام الہی صفات اپنے اندر لینا چاہتا ہے اس صفت کو چھوڑ نہیں سکتا اور راست باز کی خود بھاری نشانی یہی ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کے لئے ان چار صفتوں کو پسند کرتا ہے ایسا ہی اپنے نفس کے لئے بھی یہی پسند کرے لہذا خدا نے سورۃ فاتحہ میں یہی تعلیم کی تھی جس کو اس زمانہ کے مسلمان ترک کر بیٹھے ہیں۔تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحہ 518-519) صفات اربعہ کا ظہور سیح موعود امام آخر الزمان میں الْحَمْدُ لِلہ کا مظہر رسول اللہ ﷺ کے دو ظہوروں محمد اور احمد میں ہوا۔اب نبی کامل علی کی اُن صفات اربعہ کو بیان کر کے صحابہ کرام کی تعریف میں پورا بھی کر دیا گویا اللہ تعالی ظلی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے۔اس لئے فنافی اللہ کے یہی معنے ہیں کہ انسان الہی صفات کے اندر آ جائے۔اب قصہ کوتاہ کرتا ہوں کہ صحابہ میں ان صفات اربعہ کی تجلی چمکی لیکن بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے وہ بھی صحابہ میں داخل ہے جو احد کے بروز کے ساتھ ہوں گے چنانچہ فرمایا ہے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة :4) یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی۔اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ میچ موعود کی جماعت ہے۔منھم کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہ کی طرح ہوگا۔صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی۔مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔وہ بھی رسول اللہ ﷺ ہی کی تربیت کے نیچے ہونگے۔اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے۔جیسے ان صفات اربعہ کا ظہوران صحابہ میں ہوا تھا۔ویسے ہی ضروری تھا کہ اخَرِيْنَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 430-431)