حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 119
119 نہیں کہ اس امت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آئے جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اور اُن کاظل ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ اس امت میں اس زمانہ میں ہزار ہا یہودی صفت لوگ تو پیدا کرے اور ہزار ہا عیسائی مذہب میں داخل کرے مگر ایک شخص بھی ایسا ظاہر نہ کرے جو انبیاء گذشتہ کا وارث اور ان کی نعمت پانے والا ہوتا پیشگوئی جو آیت اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے مستنبط ہوتی ہے وہ بھی ایسی ہی پوری ہو جائے جیسا کہ یہودی اور عیسائی ہونے کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور جس حالت میں اس امت کو ہزار ہا برے نام دیئے گئے ہیں اور قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہود ہو جانا بھی ان کے نصیب میں ہے تو اس صورت میں خدا کے فضل کا خود یہ مقتضا ہونا چاہیئے تھا کہ جیسے گذشتہ نصاریٰ سے انہوں نے بری چیزیں لیں اسی طرح وہ نیک چیز کے بھی وارث ہوں اسی لئے خدا نے سورۃ فاتحہ میں آیت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بشارت دی کہ اس امت کے بعض افراد انبیاء گذشتہ کی نعمت بھی پائیں گے نہ یہ کہ نرے یہود بنیں یا عیسائی بہنیں اور ان قوموں کی بدی تو لے لیں مگر نیکی نہ لے سکیں۔کشتی نوح-رخ جلد 19 صفحہ 45 تا48) سورۃ فاتحہ کے نزول کی پیشگوئی وَمِنْ أَخْبَارِهَا أَنَّهَا تُبَشِّرُ بِعُمُرِ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ وَسَنَكْتُبُهُ بِقُوَّةٍ مِّنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ - وَهَذِهِ هِيَ الْفَاتِحَةُ الَّتِي أَخْبَرَ بِهَا نَبِيٍّ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ وَقَالَ رَتَيْتُ مَلَكَاقَوِيًّا نَّازِ لَّا مِّنَ السَّمَاءِ وَفِي يَدِهِ الْفَاتِحَةُ عَلى صُورَةِ الْكِتَابِ الصَّغِيرِ فَوَقَعَ رِجُلَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْبَحْرِ وَالْيُسْرَى عَلَى الْبَرِّيحُكُمِ الرَّبِّ الْقَدِيرِ وَصَرَخَ بِصَوْتٍ عَظِيمٍ كَمَا يَزْتَرُ الضّر غَامُ وَظَهَرَتِ الرُّعُودُ السَّبْعَةُ بِصَوْتِهِ وَكُلُّ مِّنْهَا وُجِدَ فِيهِ الْكَلَامُ - وَقِيلَ اخْتِمُ عَلَى مَا تَكَلَّمَتْ بِهِ الرُّعُودُ وَلَا تَكْتُبُ كَذَالِكَ قَالَ الرَّبُّ الْوَدُودُ وَ الْمَلَكُ النَّازِلُ أَقْسَمَ بِالْحَيِّ الَّذِي أَضَاءَ نُورُهُ وَجْهَ الْبِحَارِ وَ الْبُلْدَانِ أَنْ لَّا يَكُونَ زَمَانٌ بَعْدَ ذَالِكَ الزَّمَانِ بِهَذَا الشَّأْنِ وَقَدِ اتَّفَقَ الْمُفَسّرُونَ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ يَتَعَلَّقُ بِزَمَانِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ الرَّبَّانِيِّ - فَقَدْ جَاءَ الزَّمَانُ وَظَهَرَتِ الْأَصْوَاتُ السَّبْعَةُ مِنَ السَّبْعِ الْمَثَانِي وَهَذَا الزَّمَانُ لِلْخَيْرِ وَالرُّسُدِ كَا خِرِالا رُمِنَةِ - وَلَا يَأْتِي زَمَانٌ بَعْدَهُ كَمِثْلِهِ فِى الْفَضْلِ وَالْمَرْتَبَةِ - وَإِنَّا إِذَا وَدَّعْنَا الدُّنْيَا فَلَا مَسِيحَ بَعْدَنَا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ وَلَا يَنْزِلُ أَحَدٌ مِّنَ السَّمَاءِ وَلَا يَخْرُجُ رَأْسٌ مِّنَ الْمَغَارَةِ إِلَّا مَاسَبَقَ مِنْ رَّبِّي قَوْل فِي الدُّرِّيَّةِ (1) وَإِنَّ هَذَا هُوَ الْحَقُّ وَقَدْ نَزَلَ مَنْ كَانَ نَازِ لَا مِّنَ الْحَضْرَةِ وَتَشْهَدُ عَلَيْهِ السَّمَاء وَالَّا رُضُ وَلَكِنَّكُمْ لَا تَطَّلِعُونَ عَلى هَذِهِ الشَّهَادَةِ وَ سَتَذْكُرُوْ نَنِي بَعْدَ الْوَقْتِ وَالسَّعِيدُ مَنْ أَدْرَكَ الْوَقْتَ وَمَا أَضَاعَهُ بِالْغَفْلَةِ اعجاز اسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 71 تا 73)