حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 111 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 111

111 غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اُس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جسکو داؤ دی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا رُوئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 133 ) حضرت اقدس تمام انبیاء کے کمالات متفرقہ کے ظلی طور پر حامل ہیں فرمایا: کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے۔وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے سے بڑھ کر موجود تھے۔اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے۔اور اس لئے ہمارا نام آدم ، ابراہیم موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف سلیمان، یکی عیسی وغیرہ ہے۔چنانچہ ابراہیم ہمارا نام اس واسطے ہے کہ حضرت ابراہیم ایسے مقام میں پیدا ہوئے تھے کہ وہ بت خانہ تھا اور لوگ بت پرست تھے۔اور اب بھی لوگوں کا یہی حال ہے کہ قسم قسم کے خیال اور وہی بتوں کی پرستش میں مصروف ہیں اور وحدانیت کو چھوڑ بیٹھے ہیں پہلے تمام انبیاء کل تھے نبی کریم ﷺ کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم ﷺ کے طل ہیں۔سومولا نا روم نے خوب فرمایا ہے نام احمد نام جمله انبیاء است چوں بیامد صد نود هم پیش ما است (ترجمہ:- احمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کا نام ہے۔جب سو کا ہندسہ آ گیا تو نوے کا بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔) نبی کریم ﷺ نے گویا سب لوگوں سے چندہ وصول کیا اور وہ لوگ تو اپنے اپنے مقامات اور حالات پر رہے پر نبی کریم ﷺ کے پاس کروڑوں روپے ہو گئے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 201) فرمايا: " اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم“ کی دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ظلی سلسلہ پیغمبروں کا اس اُمت میں قائم کرنا چاہتا ہے۔مگر جیسا کہ قرآن کریم میں سارے انبیاء کا ذکر نہیں اور حضرت موسیٰ“ اور حضرت عیسی کا ذکر کثرت سے ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اُمت میں بھی مثیل موسی" یعنی آنحضرت ا اور مثیلِ عیسی یعنی امام مہدی سب سے عظیم الشان اور خاص ذکر کے قابل ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 455)