حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 88 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 88

88 88 حضرت اقدس آنحضرت ﷺ کی آمد ثانی ہیں چونکہ آنحضرت ﷺ کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا اس لئے قرآن شریف کی آیت وَالخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمع 4) میں آنحضرت ﷺ کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس وعدہ کی ضرورت اس وجہ سے پیدا ہوئی گہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت ﷺ کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہئے تھا اس وقت باعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا۔سو اس فرض کو آنحضرت ﷺ نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کیلئے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 263 حاشیہ) اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ساتھ ہے یہ درجہ عطا فرمایا ہے کہ وہ صحابہ کی جماعت سے ملنے والی ہے وَ الخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بهم ( الجمعه (4) مفتروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود والی جماعت ہے اور یہ گویا صحابہ کی ہی جماعت ہوگی اور وہ مسیح موعود کے ساتھ نہیں در حقیقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی ہیں کیونکہ مسیح موعود آپ ہی کے ایک جمال میں آئے گا اور تکمیل تبلیغ اشاعت کے کام کیلئے وہ مامور ہو گا۔تا مرا بروئے مصطفى ( ملفوظات جلد اول صفحہ 405) زبر دل پرد چون مرغ سوئے مصطفیٰ ایسا ہی عشق مجھے مصطفے کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفے کی طرف اڑ کر جاتا ہے داوند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و جب سے مجھے اس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے منکہ مے بینم رخ آں دلبرے جاں فشانم گر دہر دل دیگرے میں اس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں اگر کوئی اسے دل دے تو میں اسکے مقابلہ پر جان نثار کر دوں ساقی من هست آں جاں پرورے ہر زمان مستم کند از ساغری شخص وہی روح پرور تو میرا ساقی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے محو روئے او شد است ایں روئے من ہوئے او آید زبام و کوئے من یہ میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اس کی خوشبو آرہی ہے بکه من در عشق او هستم نہاں من ہمانم - من همانم - من ہماں از بسکہ میں اس کے عشق میں غائب ہوں میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا ! میری روح اس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریباں اور میرے گریباں سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد اندر جان احمد شد 삼상 اسم من گردید آں اسم وحید احمد کی جان کے اندر احمد ظاہر ہو گیا اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے (سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 9697)