تحقیقِ عارفانہ — Page 87
: AL مؤثر تھے کیونکہ علت نائیہ بھی ہمنزلہ آباء کے ہے۔یہ علت خالق کے علم میں موجود بوجود علمی تھی۔اور ساری الہی سکیم میں جو انبیاء کے بھیجنے سے متعلق تھی مؤثر رہی ہے۔پس تمام انبیاء خاتم السلمین ﷺ کی نبی تراش مہر سے ہی موجب حدیث نبوی كُنتُ مَكْتُو باً عِندَ اللهِ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنُحدِلُ فِي طِينِهِ (میں خدا کے حضور اس وقت بھی خاتم النمین تھا جب کہ آدم ابھی پانی اور کیچڑ میں تھا ) متاثر ہیں اور آپ کا وجو د اس سب کے لئے قبل از ظهور بطور علت غائیہ مؤثر رہا ہے۔پس جب تمام انبیاء ایک طرح سے خاتم النبیین کا ہی فیض ہیں تو اگر بالفرض حضرت مرزا صاحب امت محمدیہ میں آخری امتی نبی ہوں تو پھر بھی النبیین (بصیغہ جمع) کے افراد تین سے زیادہ ہزار ہا انبیاء کی صورت میں نبی تراش مہر کے فیض سے وجود میں آچکے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے ظہور پر صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ اب آپ کے بعد نبی کے ظہور کے لئے شریعت کا ملہ محمد یہ آجانے کی وجہ سے اس کی پیروی شرط ہے۔والا خاتم کے نبی تراش فیض پر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء مرسلین شاہد ہیں۔فصل کا آخری اعتراض اب جناب برق صاحب کی اس فصل کے صرف ایک اعتراض کا جواب باقی رہ گیا ہے۔وہ اعتراض یہ ہے کہ۔"جب حضور کی توجہ سے نبی پیدا ہو سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کے صحابہ کرام میں سے کوئی شخص مثلاً ابو بحر ، عمر ، علی ، این عوف، ابنِ عباس،ابنِ مسعود رضی اللہ عنہم منصب نبوت پر فائز نہ ہو سکا۔" (حرف محرمانه صفحه ۴۱) الجواب اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت جزئیہ سے حصہ تو ان صحابہ کرام کو ضرور ملا د مسند احمد حنبل بروایت امامه و کنز العمال جلد ۶ صفحه ۱۱۲ و مشکوۃ باب فضائل سید المر سلین۔