تحقیقِ عارفانہ — Page 86
۸۶ کے انبیاء وقت بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔“ (لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۳۲ طبع اوّل) یہ استدلال ہے سورہ فاتحہ کی دعا اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اور بتا رہے ہیں کہ اس آیت کی رو سے خدا تعالٰی کے انبیاء وقت بعد وقت آتے رہیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے تئیں آخری نبی قرار نہیں دیا۔اور پھر آپ اسی لیکچر کے صفحہ ے پر تحریر فرماتے ہیں۔چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو۔اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی صحیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہے۔66 اس سے ظاہر ہے کہ آپ کی ظلیت میں آئندہ بھی کوئی امام اور مسیح آسکتا ہے اور یہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ آپ کے بعد ولایت کا دروازہ بھی آپ کی اسی تحریر کی رو سے کھلا ہے جسے ہر دکھانے کے لئے برق صاحب نے ادھوری عبارت پیش کی ہے پس جب آئندہ نبوت کا امکان ہے تو خاتم النبیین کی مہر کے فیض سے حضرت مسیح موعود کی تحریروں کے مطابق امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ انبیاء کا امکان ثابت ہو گیا۔ماسوا اس کے جناب برق صاحب پر واضح ہو کہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود کے کلام کی روشنی میں تمام انبیائے کرام کو جو آدم سے لے کر اس وقت تک ہوئے آنحضرت معہ کے مقام خاتمیت کے عِلتِ غائیہ ہونے کی حیثیت میں اس مقام کا فیض ہی تسلیم کرتی ہے۔چھانکہ اصل غرض نبیوں کے بھیجنے سے یہ تھی کہ خاتم المین کے ظہور سے پہلے یہ انبیاء قوموں کو اپنی شرائع کے ذریعہ اس بات کے لئے تیار کردیں کہ وہ خاتم النعین ان کے ظہور پر ان پر ایمان لانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔اسلئے خاتم النبیین ما قبل از ظهور بطور علت غائیہ ان تمام انبیاء کے نبوت پانے میں