تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 70 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 70

یعنی یہ راوی تدلیس کرتا تھا امام احمد کہتے ہیں کہ زہری سے تقریبا ئیں روایتوں میں اس نے غلطی کی ہے بیٹی بن سعید کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ شھ میں سفیان بن عیینہ کی عقل ماری گئی تھی۔پس جس نے اس کے بعد اس سے روایت لی ہے وہ بے حقیقت ہے۔“ اس کے دوسرے راوی زہری کے متعلق بھی لکھا ہے کہ۔66 كَانَ يَدلَّسُ فِي النَادِرِ۔“ ( میزان الاعتدال جلد ۳ صفحه ۱۴۶) یعنی یہ راوی کبھی تدلیس بھی کر لیا کرتا تھا۔“ پس یہ روایت اول تو سفیان بن عیینہ نے زہری سے لی ہے۔اور زہری نے العاقب کے معنی بیان کرتے ہوئے تدلیس سے کام لیا ہے اس طرح کہ اس نے والعاقب الذي ليس بعدہ نبی کے الفاظ اپنی طرف سے حدیث میں اس طرح ملا دیئے ہیں کہ حدیث کے الفاظ معلوم ہوں۔مگر محمد ثین نے اس تدلیس کو بھانپ لیا۔چنانچہ شمائل ترندی مجتبائی مطبوعہ ۱۳۳۲ھ صفحہ ۲۶ میں بین السطور لکھا ہے هَذا قَولُ الزُّهْرِی کہ یہ قول زہری کا ہے۔یعنی آنحضرت ﷺ کا نہیں۔حضرت امام ملا علی قاری اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں۔"الظاهران هذا التَفْسِيرُ للصَّحَاتِي أَوْمَنْ بَعْدَهُ فِي شَرْحِ مُسْلِمٍ قَالَا بَنُ " لأَعْرَابِي العَاقِبُ الذِي يُخْلِفُ فِي الْخَيْرِ مَنْ كَانَ قَبْلَهُ “ (مرقاة شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحه ۳۷۶ بر حاشیه مشکوہ تنہائی باب اسماء النبی ) یعنی اس سے ظاہر ہے العاقب الذي لَيسَ بَعْدَهُ نَبِی کے الفاظ امام ملا علی قاری کے قول کے مطابق کسی صحافی یا بعد کے شخص کے ہیں نبی کریم مے کے الفاظ نہیں اور ابن الاعرابی نے العاقب کے یہ معنی کئے ہیں کہ عاقب وہ ہوتا ہے جو اچھی بات میں اپنے سے پہلے کا قائمقام ہو۔"