تحقیقِ عارفانہ — Page 688
۲۸۸ شمیر نظر نہیں آتا اور دوسرے کا تنکا بھی نظر آجاتا ہے۔یہ صاحب مچھر کو تو چھانتے ہیں اور ہا تھی نگل جاتے ہیں۔برقی صاحب کو اس پر اعتراض ہے کہ عیسائیوں کی فتح کا نقارہ بجانے والے کسی شخص کو حضرت اقدس نے ولد الحرام ملنے کا شوق رکھنے والا کہا یا حلال زادہ نہیں سمجھا۔قرآن کریم نے ایک معین شخص کو جس شخص کا مفسرین نے نام بھی لیا ہے زنیم یعنی ولد الحرام قرار دیا ہے مگر برق صاحب کو اسپر اعتراض نہیں بلکہ اسے حقیقت کا اظہار سمجھتے ہیں۔مگر حضرت اقدس کسی نادان دشمن اسلام شخص کو جو عیسائیوں کی فتح کا نقارہ بجانے والا ہو ولد الحرام بننے کا شوق رکھنے والا قرار د میں تو یہ امر قابل اعتراض ہے۔حالانکہ یہ الفاظ بطور استعارہ استعمال ہوئے ہیں کہ ایسے لوگ فرزند اسلام کہلانے کے مستحق نہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں۔جو شخص حضرت عائشہ پر تہمت لگاتا ہے وہ ولد الزنا ہے یہ الفاظ بھی بطور استعارہ ہیں کہ ایسا شخص جو مسلمان ہو کر اپنی اس ماں پر تہمت لگاتا ہے وہ فرزند اسلام نہیں۔: قلوبهم 66 اسی طرح برقی صاحب نے حضرت اقدس کی ایک عبارت یوں پیش کی يُقبلُنِى وَيُصَدِّقُ دَعْوَتِى إِلَّا ذُرِّيَّةُ البَغَايَا الَّذِينَ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى (آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۷) قطع نظر اس کے کہ یقبلنی کی ی پر پیش ڈالنا اور ذریۃ کا اعراب پیش سے دینا برق صاحب کی عربی دانی کی قلعی کھول رہا ہے ہم اس جگہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ برق صاحب نے اس کا ترجمہ یوں درج کیا ہے :- کنجروں کے چوں کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے باقی سب میری نبوت پر ایمان لا چکے ہیں۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۲۸)