تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 653 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 653

۶۵۳ اس شعر پر برق صاحب نے یہ اعتراض کیا ہے کہ :- الجواب اسرارها کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔اللہ مذکر اور ضمیر مؤنث ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۱۲) اس اعتراض میں آپ بد دیانتی سے کام لے رہے ہیں۔یا یہ اعتراض آپ کی کم فہمی پر مبنی ہے۔ہا کا مرجع اللہ نہیں بلکہ اس شعر سے پہلے شعر کے مصرع اول میں لفظ " حقائق اس کا مرجع ہے۔پہلا شعر یوں ہے وكم من حقائق لا يُرى كَيْفَ شَبُحُهَا گنجم بعيد نورها ینی يتستر حقائق حقیقۃ کی جمع مکسر ہے اس لئے اس کی طرف ھا کی ضمیر راجع کی گئی جو جمع مؤنث کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔پس اللہ اس کا مرجمع نہیں ہے۔-: 6 فقلتُ لَكَ الويلاتِ يا ارض جَولَرَ لُعِنُتِ بِمَلْعُون فانتِ تُدَمَّر برق صاحب کا اعتراض اسپر یہ ہے کہ : ارض مؤنث ہے اور تدمر واحد مذکر مخاطب گویا مذ کر کے لئے مؤنث کا صیغہ استعمال کر دیا جو صریحاً غلط ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۱۲) الجواب اس جگہ تدمرين مؤنث کا کی ن ضرورتِ شعری کے لئے حذف کیا گیا ہے۔اور لعنتِ صیغہ مؤنث اس لفظ تُدمرین کے مؤنث ہونے پر دال ہے۔اور ضرورت شعری کے لئے ایسا حذف جائز ہے۔دیکھئے آیت قرآنیہ والول إِذا يَسر