تحقیقِ عارفانہ — Page 649
۶۴۹ دینے کی جرات نہ ہوئی۔آپ نے تحدی کو زور دار بناتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا :- ”دیکھو! میں آسمان اور زمین کو گو اور کھکر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر میں صادق ہوں اور خدا تعالی جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہو گا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اردو مضمون کا رد لکھ سکیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دیگا اور ان اعجاز احمدی صفحہ ۳۷ طبع اول) اس پر زور تحذی کے باوجود کوئی شخص مقابلے میں نہ آیا۔جناب برق کے دلوں کو غمی کر دیگا۔“ صاحب لکھتے ہیں :- وو چونکہ ان شرائط کو پورا کرنا انسانی قدرت سے باہر تھا اس لئے کوئی شخص۔مقابلے میں نہ اترا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۱۱) جناب برق صاحب اس امر کو تو اعجاز کہتے ہیں جو انسانی قدرت سے باہر ہو۔دیکھئے اس قصیدہ کو حضرت اقدس نے پانچ دن میں لکھ لیا اور اس کے ساتھ ایک اردو مضمون لکھ کر پندرہ دن میں شائع کر کے مخالفوں کے پاس بھجوادیا۔اور پر زور تحدى کے ساتھ غیرت دلایا جانے پر بھی مخالف علماء سارے ملکر بھی پندرہ دن کی مدت میں اس قصیدے کا جواب لکھ کر شائع نہ کر سکے تو اس کا معجزہ ہونا تو ثابت ہو گیا۔اور یہ امر برق صاحب خود بھی مان چکے ہیں کہ ان شرائط کا پورا کرنا انسانی قدرت سے باہر تھا۔اس مدت کے گذر جانے کے لمبے عرصے بعد اگر کوئی شخص جواب میں کوئی قصیدہ شائع بھی کر دے تو حضرت اقدس کے قصیدہ کے معجزہ ہونے میں اس سے کوئی کمی واقع نہیں ہو سکتی؟ معجزہ تو اپنے وقت پر کام کر گیا اور مد مقابل وقت کے اندر جواب شائع کرنے میں ناکام ہو گئے۔برق صاحب نے اس قصیدہ کے متعلق لکھا ہے :-