تحقیقِ عارفانہ — Page 629
۶۲۹ وو یعنی تم پر افسوس ہے کہ تم نے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے قول منكم " کو فراموش کر دیا۔اور فضول گمان رکھتے ہو کہ صحیح آسمان سے آئے گا۔تم قرآن کو کیوں ترک کرتے ہو ہدایت پانے والوں کے لئے قرآن سے بڑھ کر کون سی گواہی ہے۔“ اس سیاق سے ظاہر ہے خروج من القرآن کے الفاظ حضرت اقدس نے اس جگہ قرآن مجید کو نظر انداز کرنے اور اس سے غفلت برتنے کے معنوں میں استعمال کئے ہیں۔برق صاحب! المنجد کو ہی دیکھ لیتے تو یہ اعتراض نہ اٹھاتے۔”المنجد میں ”مرق“ کے لفظ کے تحت لکھا ہے :- مَرَقَ السُهُمُ مِنَ الرَميَةِ نَفَدَ فِيهَا وَخَرَجَ مِنْهَا۔خرج منه بضلالةٍ أو بَد عَةٍ (المنجد باب م) مِنَ الدِّين یعنی مَرقَ السُّهُمُ مِنَ الرَمُيَّةِ کے یہ معنے ہیں کہ تیر نشانے میں نفوذ کر کے اس سے نکل گیا اور مرق من الدین کے معنے خَرَجَ مِنْهُ بِضَلالَةٍ أَو بِدُعَہ کے ہیں وہ دین سے گمراہی یا بدعت کی وجہ سے نکل گیا۔دیکھ لیجئے خود لغت کی کتاب میں ایسے موقعہ کے لئے خَرَجَ مِنْهُ بضلالةٍ او بدعہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں نہ کہ خرج على الدین کے۔حدیث میں بھی آیا ہے۔من مشى مع ظالم ليقوية وَهُوَ يَعْلَمُ اله ظالم" ( مشکوہ باب الظلم) کہ جو شخص ظالم کے ساتھ چل پڑا کہ اس کو قوت دے اور وہ جانتا ہو کہ وہ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ - ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔اس حدیث میں آنحضرت علیہ کے خَرَجَ عَلَى الْإِسْلَامِ کے الفاظ استعمال عليه نہیں فرماتے بلکہ خرج من الاسلام کے الفاظ ہی استعمال فرمائے ہیں۔اور مراد اس