تحقیقِ عارفانہ — Page 53
۵۳ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں مبعوث نہ کیا جاتا تو البتہ تم میں عمر مبعوث کیا جاتا۔پس چونکہ آنحضرت ﷺ مبعوث ہو گئے اس لئے حضرت عمر نجما نہ بنے۔یی مفہوم لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِي لَكَانَ عُمَرُ کا لیا جا سکتا ہے کہ اب تو خدا نے مجھے نبی بنا دیا ہے اگر مجھے نبی نہ بناتا تو میرے بعد یعنی میرے سواعمر نبی ہو تا۔اس جگہ بعد کا لفظ اوپر کی دو روائتوں کے لحاظ سے سوا کے معنوں میں ہی لیا جاسکتا ہے۔قرآن شریف میں وارد ہے :- وَمَا يُمْسِكُ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ - (فاطر : ٣) یعنی جس خیر کو خداروک لے تو اسے اس کے سوا اور کوئی نہیں کھول سکتا۔تفسیر جلالین جلد ۲ صفحہ ۲۹ مطبوعہ مصر میں آیت لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِئُ ( ص : ۳۵) کی تفسیر میں بعدی کے معنی سوائِی (میرے سوا) لکھے ہیں۔اور آیت فَمَنْ يَّهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللهِ (الجاثية : ۲۴) کے معنی بھی اللہ کے سوا ہیں۔پس جب بعد کے معنی سوا کے بھی ہیں تو اس حدیث میں یہی معنی لئے جاسکتے ہیں۔کیونکہ مسیح موعود کو تو خود آنحضرت علی نے اپنے اور اپنے بعد ظاہر ہونے والا نبی اللہ قرار دیا ہے۔امکان نبوت کے بارہ میں تین اور حدیثیں اب امکانِ نبوت کے بارہ میں لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کے علاوہ تین اور حدیثیں ملاحظہ ہوں۔رسول اللہ علیہ فرماتے ہیں۔أبُو بَكَر أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلا أَنْ يَكُونَ نَبِيُّ - كنوز الحقائق في حديث خیر الخلائق صفحه ۴) یعنی ابو بحر اس امت میں سے افضل ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی ہو۔(یعنی امت میں پیدا ہو ) يكون کا مصدر "کون ہے جس کے معنی عدم سے وجود میں آتا ہیں۔یعنی