تحقیقِ عارفانہ — Page 578
۵۷۸ مجروح دہلوی شاگر د غالب :- جو کہ غیروں کو آشنا جانے رضا علی وحشت :- وہ بھلا قدر میری کیا جانے کیوں بھول کر بھی وحشت نہ کیا خیال فردا میں رہا اسی سے غافل کہ جو کام تھا ضروری شاد علیم آبادی :- جلوہ تیرا دیکھا کہ جو روپوش ہوئی دھوپ موسیٰ کی طرح گرتے ہی خاموش ہوئی دھوپ اکبر الہ آبادی : نظر وہ ہے جو دل پہ نقش حسن مدعا کھینچے نفس وہ ہے کہ جو سینے میں آہ دل کشا کھینچے بے خود دہلوی :- نہ تھاوہ دوست تو دشمن بھی زمانہار نہ تھا کہ وہ اس نے کہ جو دل کو ناگوار نہ تھا ہائے وہ شخص کہ جو مورخ یار رہا حیف اس دل پہ کہ جو طالب دیدار رہا نادر لکھنوی :- غیر کیا کور نمک ہیں کہ جو زخمی ہو کر ذائقہ بھول گئے ہیں نقش افشانی کا