تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 562 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 562

۵۶۲ تیسر افقره برق صاحب نے یوں لکھا ہے :- اصل بات یہ ہے کہ شیعہ کی روایات کے بعض سادات کرام کے کشف لطیف پر بنیاد معلوم ہوتی ہے“ (ازالہ اوہام صفحہ ۷ ۴۵ طبع اول ) اس پر برق صاحب معترض ہیں کہ :- 9966 3366 اصل بات کے ساتھ معلوم ہوتی ہے“ بے معنی ہے کیونکہ وہ مظہر وو الیقین ہے اور یہ مخبر اشتہاہ باقی فقرہ بے معنی ہے۔”بنیاد مضاف ہے اور روایات“ مضاف الیہ دونوں میں سات الفاظ حائل ہیں یہ انفصال علمائے فصاحت کے ہاں ناروا ہے جملے میں کے لئے ” کی تکرار ذوق خراش ہے۔“ الجواب اس جملے میں ” کے لئے “ تو موجود ہی نہیں۔پس برق صاحب کے ذوق کی نزاکت ملاخط ہو کہ بغیر " کے لئے " کی موجودگی کے ہی ان کا ذوق خراش پا رہا ہے۔روایات کے بعد " کے " کی جائے کی پڑھئے چونکہ روایات کے بعد سادات کرام کی اہمیت کے پیش نظر "جیاد " کا لفظ پیچھے لایا گیا ہے لہذا یہ اقتصال بلا وجہ نہیں برق صاحب ایہ بلاوجہ نے علمائے فصاحت کا ایسے انفصال کے غیر فصیح ہونے کے لئے کوئی قاعدہ بیان نہیں کیا پھر یہ فقرہ معمل کیسے ہوا جب کہ اس کا کوئی لفظ بے معنی نہیں اور اس عبارت کے یہ معنی ظاہر ہیں کہ زیر بحث مسئلہ میں اصل بات یہ سمجھ میں آتی ہے شیعہ روایات سادات کرام کے کشف لطیف پر مبنی ہیں۔معلوم ہوتی " مخبرا اشتباہ نہیں کیونکہ روایات کی بنیاد کشف لطیف پر سمجھنا غورو فکر چاہتا ہے۔اور معلوم ہو نا اس غور و فکر کا نتیجہ ہے پس معلوم ہوتی“ ہے مخبر