تحقیقِ عارفانہ — Page 550
لئے اشارات ملتے ہیں کہ امت محمدیہ کے علماء بھی علمائے یہود کی طرح اپنے مسیح وقت سے متصادم ہوں گے۔اٹھواں اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریہ دھرم صفحہ ۲۱ پر لکھا ہے :- حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع (حمل) تک بعد طلاق کے دوسر انکاج کرنے سے دستکش رہیں۔اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا بھی نطفہ ٹھہر جائے۔اس صورت میں نسب ضائع ہو گی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔برق صاحب نے اس حکمت کی یوں ہنسی اڑائی ہے :- اگر بالفرض حمل کی حالت میں بھی نطفہ ٹھہر جائے اور پہلے حمل پر چار ماہ گذر چکے ہوں دوماہ کے بعد تیسر ا حمل ٹھہر جائے اور پھر ایک ماہ کے بعد چو تھا اور ہر چہ نو ماہ کے بعد پیدا ہو تو غریب ہیوی سارا سال ہے جنتی رہے۔" الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۴۶) اگر چہ عام معمول تولید یہی ہے کہ اگر ایک دفعہ حمل قرار پا چکا ہو تو بالعموم دوسر احمل قرار نہیں پاتا۔لیکن بعض عورتوں میں اسبات کا امکان ہوتا ہے کہ پہلے حمل کے بعد دوسر احمل بھی قرار پا جائے۔گو یہ تمسفر والی صورت کبھی پیدا نہیں ہوتی جس کا ذکر جناب برق صاحب نے کیا ہے۔افسوس ہے کہ برق صاحب نے آریہ دھرم کا حوالہ تو درج کر دیا اور اس کی جنسی بھی اڑائی لیکن انہوں نے آریہ دھرم کی ذیل کی عبارت جو ایسے امکان کی دلیل تھی اپنی کتاب کے پڑھنے والوں سے چھپائی ہے۔اس