تحقیقِ عارفانہ — Page 486
۴۸۶ کے صفحہ ۹۹ پر یہ الہام درج ہے " پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی اور نیچے ترجمہ میں درج ہے "بیمار جب دوبارہ آئے گی تو پھر ایک اور زلزلہ آئے گا۔یہ الہام دراصل 66 ور مئی ۱۹۰۵ء کا ہے۔جو "الوصیہ" میں جو مئی ۱۹۰۵ء کی کتاب ہے درج ہے۔(ملاحظہ ہو تذکرہ صفحہ ۵۴۳ الهام نمبر ۸۶۳) الفاظ وحی کے یہ ہیں۔پھر بیمار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔چونکہ پہلا زلزلہ بھی بہار کے ایام میں آیا تھا اس لئے خدا نے خبر دی کہ وہ دوسر از لزلہ بھی بہار میں ہی آئے گا۔اور چونکہ آخر جنوری میں بعض درختوں کا پتہ نکلنا شروع ہو جاتا ہے اس لئے اس مہینہ سے خوف کے دن شروع ہونگے اور غالبا مئی کے آخیر تک وہ دن رہیں (الوصیۃ صفحہ ۱۵) گے۔“ اس سے ظاہر ہے کہ اس الہام کا تعلق ۱۹۰۸ء سے قرار دینا برق صاحب کی سراسر بناوٹ ہے۔جیسا کہ الوصیۃ ۱۹۰۵ء کے حوالہ سے ثابت کیا جا چکا ہے یہ الہام مئی ۱۹۰۵ء کو ہوا تھا اب اگلی بہار سے مراد ۱۹۰۶ء کی بہار تھی جس میں یہ زلزلہ مطابق پیشگوئی کے متوقع تھا۔چنانچہ قدرت الہی کا کرشمہ دیکھئے کہ ۱۹۰۵ء کے کا نمرہ کے زلزلہ کے بعد عام طور پر خیال تھا کہ ہندستان میں اب یہ آفت نہیں آئیگی۔کیونکہ جاپان کا ایک پروفیسر اموری “ جو زلازل کا محقق اور مبصر تھا زلازل کی تحقیقات کے لئے ہندستان آیا تھا اور تحقیقات کے بعد اُس نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ یہاں اب دو سال تک اور کوئی زلزلہ نہیں آئیگا ( الحکم ۱۰ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ اکالم (1) لیکن ہوا یہ کہ اگلے سال ہی ۲۷ فروری ۱۹۰۶ء کا دن گذر نے کے بعد رات کو ڈیڑھ بجے کے قریب ایسا زبر دست زلزلہ آیا کہ بہت سے گھر مسمار اور بہت سی جانیں تلف ہو گئیں (دیکھو اخبار بدر ۱۳ مئی ۱۹۰۶ء صفحه ۱۲ کالم ۲، ۳) اور یہ پیشگوئی اپنے الفاظ کے مطابق اگلی بہار میں پوری ہو گئی اس زلزلہ کے متعلق مولوی عبد اللہ العمادی نے اپنے رسالہ