تحقیقِ عارفانہ — Page 459
۴۵۹ میں مبتلا بھی نہیں ہو گا۔ہاں اگر دار مسیح میں اس مرض میں مبتلا ہو کر بچ جائے تو یہ امر نشان کی عظمت کو بڑھانے والا ہے نہ کہ گھٹانے والا۔لوگ آخر چار دیواری سے باہر آتے جاتے تھے اور طاعون کا متعدی اثر قبول کر سکتے تھے اور ان کو گلٹیاں وغیرہ بھی نکل سکتی تھیں جو دراصل طاعون کا طبعی اثر ہے۔لیکن ہموجب پیشگوئی دار مسیح کے اندر کوئی شخص طاعون سے مر نہیں سکتا تھا۔چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ دار مسیح کے اندر طاعون سے ایک متنفس بھی ہلاک نہیں ہوا حالانکہ قادیان میں طاعون وارد ہوئی اور دار مسیح سے دیوار بد یوار بعض لوگ طاعون سے ہلاک ہوئے۔پس یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے مگر برق صاحب نے اس پر یوں خاک ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ یہ کہہ کر کہ کیا آپ کے گھر کی چار دیواری محفوظ رہی ؟ آگے یہ حوالہ دیا ہے کہ۔بڑی خوشاں (شاید ملازمہ کو تپ ہو گیا تھا۔اس کو گھر سے نکال دیا ہے لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔ماسٹر محمد دین کو تپ ہو گیا اس کو بھی باہر نکال دیا ہے۔میں تو دن رات دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی گئیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہو گیا کہ شائد دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطر ناک آثار ظاہر ہو گئے۔(مکتوبات مرزا صاحب بنام نواب محمد علی خان محرره ۱۰ اپریل ۱۹۰۴ء مندرجہ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم صفحه ۱۱۵ حرف محرمانه صفحه ۲۹۸) بڑی غوثاں کے متعلق حضرت اقدس نے خود بتا دیا کہ اس کو طاعون نہیں تھا۔اصل میں اسے منتظمین نے احتیاطا نکال دیا تھا۔ماسٹر محمد دین صاحب دار ا صبح میں نہیں رہتے تھے بلکہ وہ دار انچ سے باہر سکول کے بورڈنگ میں بطور اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سکونت رکھتے تھے انہیں آپ بھی ہوا اور گلٹی بھی نکلی اور وہ بورڈنگ سے باہر نکالکر خیمہ میں رکھے گئے۔چنانچہ میں نے جناب مولوی محمد دین صاحب کے سامنے جو ان دنوں ماسٹر محمد دین کہلاتے تھے اور آج کل مرکز سلسلہ میں ناظر تعلیم کے عہدہ پر