تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 418 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 418

۴۱۸ "رجوع الی الحق کا مفہوم ایک ہی ہو سکتا ہے۔یعنی تثلیث سے تائب ہو کر (حرف محرمانه صفحه ۲۷۱) توحید قبول کرنا۔“ اس لئے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کا آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے انکار ان کے رجوع کی ایک علامت تو ہو سکتا تھا۔مگر اس وقت اسے ایسار جوع قرار نہیں دیا جاسکتا جس سے آتھم صاحب کا وعیدی موت سے بچ جانا قطعی طور پر یقینی ہو جائے۔اس لئے پندرہ ماہ کی میعاد پیشگوئی تک اس کے انجام کا انتظار ضروری تھا اور چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے اعلانیہ اس بات کا پندرہ ماہ کے عرصہ میں اظہار نہیں کیا تھا کہ وہ توحید کے قائل ہو چکے ہیں اس لئے لوگوں کے ابتلا میں پڑنے کا احتمال بھی موجود تھا۔لنڈا حضرت اقدس کے لئے لوگوں کے کسی ابتداء میں پڑنے کے خیال سے پریشانی ایک طبیعی امر تھا۔چنانچہ منشی رستم علی خاں صاحب کو حضرت اقدس نے جو خط لکھا اس میں لوگوں کے کسی امتحان میں پڑنے کے خطرہ کا ہی اظہار کیا گیا ہے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں :- ”اب تو صرف چند روز پیشگوئی میں رہ گئے ہیں۔دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اہدوں کو امتحان سے بچاوے۔" (خط مندرجہ حرف محرمانه صفحه ۲۷۳) اس سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس اپنے اجتہاد کے رو سے عبداللہ آتھم کے آنحضرت علے کو دجال کہنے سے رجوع کر لینے کے باوجود اس رجوع کو اس بات کے لئے قطعی نہیں سمجھتے تھے کہ اس رجوع سے وہ یقینی طور پر وعیدی موت سے بیچ سکتا ہے کیونکہ پیشگوئی میں رجوع الی کے الفاظ سے رجوع الی التوحید سمجھا جاتا تھا۔اعتراض دوم دوسرا اعتراض جناب برق صاحب کا یہ ہے کہ :- اگر رجوع سے مراد صرف لفظ دجال سے رجوع تھا تو پیشگوئی میں بھی اس