تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 367 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 367

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَتُصَلِى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم وَعَلَى عبدهِ المِيحِ الْمَوْعُود حلفیه شهادت پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے کافی عرصہ پہلے غالباً ۳۳ - ۳۴ء میں مجھ کو پٹی میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں جانی کا اتفاق ہوا۔وہاں مرزا سلطان محمد صاحب داماد مرزا احمد بیگ صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔انہوں نے دوران گفتگو میں حضرت مسیح موعود سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری میرے پاس پٹی آئے۔میں نے آتے ہی ان کے لئے پانی وغیرہ پلانے کا انتظام کرنا شروع کیا۔جس پر انہوں نے کہا کہ میں سب سے پہلے اپنا ایک مقصد آپ سے پورا کرانا چاہتا ہوں۔اس کے بعد میں پانی وغیرہ پیوں گا۔اور وہ یہ کہ آپ مرزا غلام احمد صاحب کے خلاف ایک تحریر مجھ کو دید میں اور یہ کہ ان کی پیشگوئی دربارہ محمدی بیگم خلاط ثابت ہوئی ہے۔مرزا سلطان محمد صاحب کہنے لگے کہ میں نے ان کو کہا کہ آپ ابھی تو آئے ہیں، یہ مہمان نوازی کے آداب میں ہے کہ آنے والے کو پہلے اچھی طرح بٹھا کر اور پانی وغیرہ پلا کر پھر کسی اور طرف متوجہ ہوں۔مگر مولوی ثناء اللہ صاحب یہی رٹ لگاتے رہے۔جس پر میں نے ایسی تحریر دینے سے صاف طور پر انکار کر دیا۔اور وہ بے نیل مرام واپس چلے گئے۔یہ واقعہ سنا کر انہوں نے کہا کہ یہ حضرت مرزا صاحب کے متعلق میری عقیدت ہی تھی جس کی وجہ سے میں نے ان کی ایک نہ مانی۔نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ عیسائی اور آریہ قوم کے بڑے بڑے لیڈروں نے بھی مجھ سے اس قسم کی تحریر لینے کی خواہش کی مگر میں نے کسی کی نہ مانی اور صاف ایسی تحریر دینے سے ان کو انکار کرتا رہا۔بلکہ جہاں تک مجھ کو یاد پڑتا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو عقیدت مجھ کو ان سے ہے وہ