تحقیقِ عارفانہ — Page 352
۳۵۲ لیکن ہم حیرت سے دیکھتے ہیں کہ اسی بے بسی کے عالم میں کی ہوئی پیشگوئی آج حرف بحرف پوری ہو رہی ہے اور مرزائیت دنیا کے دور دراز ممالک میں پھیلتی چلی جارہی ہے۔یورپ کے قریباً تمام ممالک میں مرزائی مبلغ پہنچ چکے ہیں اور بڑے بڑے لوگ مرزائیت کے حلقہ بجوش بن رہے ہیں۔اگر چہ یہ باتیں بادی النظر میں معمولی معلوم ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بے کسی اور بے بسی کے عالم میں ایک شخص کا انتن بیداد عوئی کر دینا کوئی معمولی بات نہیں۔اس وقت کون جانتا تھا کہ چند سال بعد ہی مرزائیوں میں اتنی قوت و طاقت پیدا ہو جائے گی کہ وہ لاکھوں روپے سالانہ خرچ سے اپنے مبلغین بلاد یورپ میں بھجوا دیں گے۔اور پھر کون سمجھ سکتا تھا کہ بڑے بڑے لارڈ مرزائیت کو قبول کر لیں گے۔یہ تمام باتیں دور از فہم تھیں جو آج بڑی حد تک پوری ہو چکی ہیں اور آثار و قرائن بتلاتے ہیں کہ بہت جلد یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہو کر رہے گی۔ان حالات کے مطالعہ سے فطری طور پر سوال پیدا ہو تا ہے کہ آخر وہ کون کی طاقت ہے جو کئی کئی سال پہلے ایک بات منہ سے نکلوادیتی ہے جو آخر کار پوری ہو کر رہتی ہے۔کاش اہل خرد سوچیں اور علمائے اسلام دلائل عقلی سے ثابت کریں کہ کیونکر ایک کاذب ایسی ٹھکانے کی بات کہہ سکتا ہے۔اور پوری کمزوری کے عالم میں کس طرح ایک مفتری کو یہ جرات ہو سکتی ہے۔کہ وہ نہایت بلند آہنگی سے اعلان کر دے کہ اسے عزت اور غلبہ حاصل ہو گا۔ہم مان لیتے ہیں کہ ایک خدا کا خوف نہ رکھنے والا انسان اتنا بڑا طوفان باندھ سکتا ہے۔لیکن کیا خدائے تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ وہ مفتریوں اور خائنوں کی تائید اور حمایت کرے۔کیا خدا تعالیٰ کذب اور ڈور کی سر پرستی کیا کرتا ہے۔ہر گز نہیں۔پس ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کے دعاوی اور پیشگوئیاں وضعی اور جعلی نہ تھیں بلکہ وہ خدا