تحقیقِ عارفانہ — Page 348
۳۴۸ فوجداری میں امرتسر میں یہ بیان دیا کہ مجھے مرزا صاحب نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کو قتل کرنے پر متعین کیا ہے۔اس بیان پر مجسٹریٹ امر تسر نے مرزا صاحب کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے۔لیکن بعد میں مجسٹریٹ کو معلوم ہوا کہ وہ وارنٹ کے اجراء کا مجاز نہ تھا۔چنانچہ اس نے وارنٹ واپس منگوا لئے اور مسل گورداسپور بھیج دی۔جسپر صاحب ضلع نے مرزا جی کو ایک معمولی سمن کے ذریعے طلب کیا۔یہاں خدا کا کرنا یہ ہوا کہ خود عبد الحمید نے عدالت میں اقرار کر لیا کہ عیسائیوں نے مجھ سے یہ جھوٹا بیان دلوایا تھا۔ورنہ مجھے مرزا صاحب نے قتل کے لئے کوئی ترغیب نہیں دی۔مجسٹریٹ نے یہ بیان سن کر مرزا صاحب کو بری کر دیا اور اس طرح سے مذکورہ بالا اطلاعات پوری ہو ئیں۔ا ۱۰- امریکہ کا ایک عیسائی ڈوئی نامی جو اسلام کا سخت دشمن تھا۔اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔مرزا صاحب نے اس کو بہت سمجھایا کہ وہ اپنے دعویٰ سے باز آئے مگر وہ باز نہ آیا بلکہ مرزا صاحب اور ڈوئی کے درمیان مباہلہ ہوا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو نقد سات کروڑ روپیہ کا نقصان پہنچا۔اسکی بیوی اور بیٹا اس کے دشمن ہو گئے۔اس پر فالج کا حملہ ہوا اور بالآخر وہ پاگل ہو کر مارچ ۱۹۰۷ ء میں فوت ہو گیا۔اس سے پہلے اگست ۱۹۰۳ء میں مرزا صاحب کو یہ اطلاع ملی تھی۔کہ اس کے میچون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آباد کردہ شہر صحون سے نہایت ذلت کے ساتھ نکالا گیا۔“ اس مباہلہ اور اطلاع سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں باتیں من و عن پوری ہوئیں۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا ہو نا محض ایک اتفاقی بات تھی۔یا اس کے ساتھ خدائی امداد شامل تھی۔حالات اس امر کا بد یہی ثبوت ہیں کہ یہ باتیں اتفاقی نہ تھیں۔بلکہ بتلانے والے کا تصرف اس کے ساتھ شامل تھا۔اب قدرتی طور پر یہ سوال