تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 263 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 263

۲۶۳ ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“ اس پر برق صاحب یوں معترض ہیں :- (حوالہ ازالہ اوہام طبع دوم صفحه ۵۶) اگر مسلمان ہمیشہ اس فرض کو پورا کرتے رہیں تو پھر وہ انگریز کے بوٹ کے 66 نیچے سے کیسے نکلیں گے۔اور وہ غلامی کا عذاب کیسے ملے گا۔“ الجواب کسی کے اچھے سلوک پر ہمیشہ شکر گزار رہنا تو مسلمانوں کا شیوہ ہے جو ان کی تعلیم کا اثر ہے۔دیکھئے مسلمان اور ہندو انگریزی حکومت سے بالآخر آئینی طریق سے ہی آزاد ہوئے نہ ان کی حکومت کی بغاوت کر سکے۔اور انگریزوں کے اچھے کاموں کی اب بھی لوگ تعریف کرتے ہیں۔پس ہمیشہ کی شکر گزاری کی تلقین سے یہ مراد نہیں کہ مسلمان جائز طریقوں سے انگریزوں کے تسلط سے آزادی حاصل نہ کریں دیکھئے ! انگریز ہندوستان چھوڑ کر جاچکا ہے مگر تاریخ احمدیت اب بھی ان کے اچھے کاموں پر شکر گذاری کا اظہار ہی کرتی رہے گی۔ہاں ان لوگوں میں سے جنہوں نے خرابیاں کی ہیں۔وہ ہمارے نزدیک قابل مذمت ہیں۔مگر اچھے سلوک پر شکر گزاری نہ کرنا بھی ایمانداری نہیں۔برق صاحب کا ناپاک حملہ جناب برق صاحب لکھتے ہیں :- " جب حکومت نے ایکٹ نمبر ۱۳ مجریہ ۱۸۸۹ء کی رو سے بڑے بڑے شہروں اور چھاؤنیوں میں گورے سپاہیوں کی خاطر طوائف خانے قائم کئے تو جناب مرزا صاحب نے اس بد اخلاقی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لکھا۔"" ا۔آخر یہ قبول کیا گیا کہ گوروں کا بازاری عورتوں سے ناجائز تعلق ہو۔کاش اس جگہ۔