تحقیقِ عارفانہ — Page 258
۲۵۸ صدی کے اختتام تک قبول کرلے گی۔میں نے محمد (ﷺ) کے دین کو ہمیشہ ہی بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔میرے نزدیک یہی مذہب بدلتے ہوئے زمانہ حیات کے مقابل پر ایسی اہمیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے یہ ہر زمانہ کے لوگوں کو اپیل کرتا ہے۔دنیا کو میرے جیسے بڑے آدمیوں کی پیشگوئیوں کو یقین بڑی وقعت دینی چاہیئے۔اور میں نے یہ پیشگوئی کی ہے کہ محمد ( ﷺ ) کا دین جیسا کہ آج کل یورپ میں قبول کیا جارہا ہے۔ویسا ہی کل بھی قبول کیا جائے گا۔قرون وسطی کے پادریوں نے یا تو جہالت کی وجہ سے یا تعصب کی بناء پر محمد (ﷺ) کے دین کی نہایت تاریک تصویر کھینچی تھی۔فی الحقیقت انہیں محمد ( ) اور اس کے مذہب سے نفرت کرنے کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ان کے نزدیک محمد کیسوع کا دشمن تھا۔لیکن میں نے اس عظیم الشان شخصیت کا مطالعہ کیا ہے۔میری رائے میں وہ نہ صرف یہ کہ دشمن مسیح نہ تھے بلکہ وہ انسانیت کے نبات دہندہ تھے۔میرا ایمان ہے کہ اگر موجودہ زمانہ میں محمد جیسا انسان دنیا کا ڈکٹیٹر یا آمر من جاۓ تو وہ ہمارے زمانہ کی مشکلات کا ایسا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔جس کے نتیجہ میں حقیقی مسرت اور امن حاصل ہو جائے۔اب یورپ محمد کے مذہب کے اصولوں کو سمجھنے لگا ہے۔اور آئندہ صدی میں یورپ اس بات کو اور زیادہ تعلیم کرے گا کہ اسلام کے اصول اس کی الجھنوں کو حل کر سکتے ہیں میری پیشگوئی کو ان حقائق کے ماتحت سمجھنا چاہیئے۔موجود و وقت میں بھی میری قوم کے اور یورپ کے کئی لوگ اسلام کو اختیار کر چکے ہیں۔اور کہا جاسکتا ہے کہ یورپ کے اسلامی بنے کا آغاز ہو چکا ہے۔" ا حضرت بائی سلسلہ پورے یقین سے یہ اعلان فرماتے ہیں :- وہ وقت دور نہیں کہ جب تم فرشتوں کی فوجیں آسمان سے اترتی اور ایشیاء اور یورپ اور امریکہ کے دلوں پر نازل ہوتی دیکھو گے۔" (فتح اسلام)