تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 14 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 14

اختلاف صرف مسیح موعود کی شخصیت کے بارہ میں ہے۔غیر احمدی کہتے ہیں مسیح موعود حضرت عیسی انہیں جو مستقل نبی تھے اور احمدی یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود آنحضرت علی کا امتی ہے۔جسے حضرت عیسی کا ہم صفات و شیل ہونے کی وجہ سے احادیث میں پلور استعارہ عیسی یا ابن مریم کا نام دیا گیا ہے۔اور نبی اللہ اور امتی قرار دیا گیا ہے۔پھر محترم برق صاحب کا تحقیق کے میدان میں اترنے کے بعد یہ بھی فرض تھا کہ وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتے کہ گو ان کے ذاتی عقیدہ کے مطابق خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی ظاہر نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی مسیح موعود آنے والا ہے تا ہم علماء سابقین کا ایک جم غفیر خاتم النبین ملانے کے بعد عیسی نبی اللہ کی اصالنا آمد کا قائل چلا آیا ہے اور یہ امر بھی ان علماء کو مسلم رہا ہے "مَنْ قَالَ بِسَلْبِ نُبُوَّتِهِ فَقَدْ كَفَرَ حَقًّا كَمَا صَرَّحَ بِهِ لسيوطي “ ( حجج الکرامۃ صفحہ ۱۳۱) کہ جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ حضرت عیسی مسلوب النبوت ہو کر ( نبوت کے بغیر ) آئیں گے اس نے یقینا کفر کا ارتکاب کیا ہے جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی نے اس کی تصریح کی ہے۔لہذا اگر احمدیوں کو ختم نبوت کا منکر قرار دیا جائے تو ان تمام علمائے اسلام کو بھی ختم نبوت کا منکر سمجھا جانا چاہیئے جو آنحضرت کے بعد حضرت عیسی بن مریم نبی اللہ کی آنحضرت ﷺ کے بعد دوبارہ 662 آمد کے قائل ہیں۔پھر اگر جناب برق صاحب نے واقعی احمد یہ لٹریچر پڑھا ہے جیسا کہ انہیں دعویٰ ہے تو انہیں یہ معلوم ہو گا احمد یہ لٹریچر میں کئی پچھلے زمانہ کے بزرگان امت اولیائے کرام اور فقہائے عظام کے اقوال ہماری طرف سے اس بات کے ثبوت میں پیش کئے جاچکے ہیں کہ ان بزرگوں کے نزدیک آیت خاتم النبیین اور ان احادیث نبویہ کی چولا نبی بعدی یا اس کے ہم معنی الفاظ پر مشتمل ہیں تشریح یہ ہے کہ آنحضرت میا اے کے بعد ولی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔اس لئے نبوت کلی طور پر ہند نہیں ہوئی۔ملاحظہ