تحقیقِ عارفانہ — Page 224
۲۲۴ میں شامل ہوتی ہے۔یا جس طرح شاخ بیج سے علاقہ رکھتی ہے۔پھر اس حوالہ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ کی پیشگوئی کے مطابق ایک مثیل مسیح آپ کی ذریت میں سے بھی آتا چاہیئے جو آپ کا متبع ہو۔پس آپ کا خاتم الخلفاء ہو نا کسی ایسے خلیفہ یا مثیل مسیح کے آنے میں مانع نہیں جو آپ کا ظل ہو اور آپ کی شاخ ہو۔بلکہ ایک ایسے خلیفہ کے آپ کی ذریت میں سے ہو۔ہونے کی پیشگوئی بھی موجود تھی جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے وجود باوجود کے ذریعہ پوری ہو چکی ہے۔فالحمد لله على ذلك جز و چهارم اس جزو کے ذیل میں برق صاحب لکھتے ہیں۔اس جز کا شخص یہ ہے کہ موسوی سلسلہ کا آخری خلیفہ حضرت مسیح اسرائیلی نہیں تھا اس طرح محمدی سلسلہ کا آخری خلیفہ ( مسیح موعود) بھی قریش سے نہیں اگر حضرت مسیح اسرائیلی نہیں تھے تو پھر اسرائیلی سلسلہ کے آخری خلیفہ کس بنا پر قرار پائے اگر مسیح کی ولادت معجزانہ تھی اور ان کے والد کوئی نہیں تھے تو کیا ان کی والدہ مر سمت کا بھی کوئی سلسلہ نسب نہیں تھا قرآن کریم نے حضرت مریم کو اخت ہارون یعنی ہارون کی بین کہا ہے اور حضرت ہارون اسرائیلی تھے۔۔۔خود مرزا صاحب فرماتے ہیں حضرت مسیح پورے طور پر بنی اسرائیلی نہ تھے صرف ماں کی وجہ سے اسرائیلی تھے والد تو تھا نہیں اور ماں اسرائیلی تھی تو پھر وہ غیر اسرائیلی کیسے بن گئے۔۔۔۔بہر حال اس حقیقت سے کوئی مؤرخ انسان انکار کر ہی نہیں سکتا کہ حضرت مسیح نسب کے لحاظ سے سو فیصدی اسرائیلی تھے اس لئے سلسلہ مماثلت کی یہ کڑی بھی ٹوٹ گئی۔“ حرف محرمانه صفحه ۱۳۱ ۱۳۳۴)