تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 220 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 220

۲۲۰ آئندہ کا حال پردۂ غیب میں بتایا ہے۔چونکہ امتناع کا حکم نہیں لگایا۔اس لئے یہ عبارت ان پہلی عبارتوں سے متضاد نہ ہوئی جن میں امکان تسلیم کیا گیا ہے اسی طرح حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کی عبارت بھی برق صاحب نے ادھوری پیش کی ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود کی مراد بھی برق صاحب کے پیش کردہ فقرہ سے یہی ہے کہ اس وقت تک امت میں صرف آپ ہی نبی کا نام پانے کے لئے مخصوص ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس صاف لکھتے ہیں۔جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔“ پھر آگے لکھتے ہیں :- جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت سے گذر چکے ہیں۔ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“ حقیقته الوحی صفحه ۳۹۱ طبع اوّل) اس سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس اس جگہ آئندہ کے متعلق کوئی بحث نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ دکھا رہے ہیں کہ تیرہ سو سال کے اندر نبی کا نام پانے کے لئے آپ ہی مخصوص ہیں اور اس کی وجہ آگے چل کر یہ بتاتے ہیں۔صلى الله اور ضرور تھا کہ ایسا ہو تا تا کہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گذر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ و مخاطبہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۱) واضح رہے کہ یہ میشکہ کی جس کا اس جگہ ذکر ہو رہا ہے وہ پیشگوئی ہے جس میں