تحقیقِ عارفانہ — Page 212
۲۱۲ طرف سے تجدید دین کے لئے مبعوث کیا جاتا تھا۔چونکہ مسیح موعود کے زمانہ تک بارہ صدیاں گذر چکی تھیں اور اس حدیث کے مطابق آپ سے پہلے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور مجددالف ثانی کے دعاوی ثابت تھے۔اس لئے ہموجب حدیث ہذایہ تعلیم کیا جانا ضروری تھا کہ آپ سے پہلے کم از کم بارہ مجددین بہر حال گذر چکے ہیں۔اور چونکہ آیت استخلاف میں سلسلۂ محمدی اور سلسلہ موسوی کے خلفاء میں مشابہت قرار دی گئی ہے۔اس لئے موسوی سلسلہ کے بارہ انبیاء جو قرآن مجید میں مذکور ہیں مجددین است موسوی قرار پاتے ہیں تا دونوں سلسلوں میں قرآن کریم کے بیان کے مطابق مشابہت متحقق ہو جائے خود آنحضرت ﷺ نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے۔لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إلى اثْنَتَى عَشْرَةَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَیش۔اس حدیث کو حضرت اقدس کی عبارت میں نے جناب برق صاحب نے اپنے مطلب کے بر عکس پا کر قصد ا حذف کر دیا ہے۔کیونکہ اس حدیث میں بارہ خلیفوں کے قریش میں سے ہونے کی تعیین موجود ہے۔اب خواہ شیعوں کی طرح بار و امام مان لئے جائیں یا اہل سنت کی طرح تبارہ مجددین تسلیم کئے جائیں جن کا قریش میں سے ہونا ضروری ہے۔بہر حال گھیر ھو میں مجدد کو غیر قریشی ماننا پڑے گا۔معلوم ہوتا ہے برق صاحب حدیثوں کے منکر ہیں اس لئے وہ احادیث کو۔نظر انداز کر کے حضرت اقدس کے بیان کو قابل اعتراض بنانا چاہتے ہیں۔چونکہ جو احادیث نبویہ قرآن مجید کے بیان کے مطابق ہوں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ان احادیث کو درست مانا ہے۔پس ایک منکر حدیث تو حضرت اقدس کے ان بیانات پر اعتراض کر سکتا ہے۔لیکن احادیث کے ماننے والے شخص کو حضرت اقدس کے بیان کی سچائی کا قائل ہو نا پڑے گا۔ورنہ آیت استخلاف اور حدیثوں میں تناقض قرار دینا ہو گا حالانکہ اس جگہ قرآن وحدیث میں کوئی تناقض نہیں۔