تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 181 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 181

نہیں فرمایا اور اندازہ میں چند سالوں کی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔نشان آسمانی کی تحریرہ سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی عمر کے چالیسویں برس دعوتِ حق کے لئے بالسهام خاص مامور کئے گئے۔اور آپ کو یہ بھارت دی گئی کہ آپ کی عمر انٹی برس یا اس کے قریب ہے اور آپ نے یہ لکھا کہ اس وقت تک دس کامل سال گذر بھی گئے ہیں۔برق صاحب نے ۱۸۹۲ء زمانہ تصنیف نشان آسمانی سے دس سال کم کر کے ۱۸۸۲ء نکالا ہے۔پس آپ کی ماموریت کا زمانہ ۱۸۸۲ء کے قریب قرار پایانہ کہ پہلا الہام نازل ہو نیکا زمانہ مگر جناب برق صاحب نے نہایت بھولے پن سے ماموریت کے زمانہ کو پہلا الہام نازل ہونے کا زمانہ قرار دے کر آپ کے اقوال میں اختلاف دکھانے کی کوشش کی ہے۔یہ ان کے محرم ہونے کا ثبوت نہیں بلکہ مجرم ہونے کا ثبوت ہے۔شہادت القرآن ۱۸۹۳ء کی تصنیف ہے اس میں لکھا ہے کہ مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا۔برق صاحب نتیجہ نکالتے ہیں کہ اگر آغاز سے مر از ۱۳۰۰ھ لی جائے تو یہ ۱۸۸۳ء کے مساوی بنتی ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ چودھویں صدی کے سر سے معین طور پر ۳۰۰واہ مراد لینا درست نہیں۔بلکہ ایک سال پہلے بھی آپ پر ماموریت کا انکشاف ہو چکا ہو تب بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کے الفاظ صادق آتے ہیں۔اور اس طرح یہ ۱۸۸۲ء ہی قرار پاتا ہے۔آپ کی ماموربیت کا زیادہ زمانہ چودھویں صدی ہجری ہی میں گذرا ہے اس صورت میں نشان آسمانی اور شہادت القرآن کے حوالوں میں کوئی اختلاف نہیں رہتا۔کیونکہ اگر ماموریت کا سال ۱۲۹۹ھ ہی قرار دیا جائے تو یہ ۱۸۸۲ء عیسوی کے مطابق ہی ہوا مگر یہ بھی اندازہ ہی ہے۔تریاق القلوب کے حوالہ کو برق صاحب نے خود شہادت القرآن کے حوالہ کا مؤید مان لیا ہے جس میں لکھا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہ محدد آیا۔۱۲۹۹ھ کے لئے بھی تیرھویں صدی کے ختم کا اطلاق درست ہے۔